میری بیوی کو مگرمچھ کھا گیا

،تصویر کا ذریعہMOSES BIKALA
چار مہینے قبل جب دمتریا نابیری اپنے گھر کے قریب ایک جھیل سے پانی لینے گئیں تو انھیں ایک مگرمچھ نے حملہ کر کے ہلاک کر دیا۔
مگر جب وہ مگرمچھ اسی علاقے میں واپس آیا تو اسے نابیری کے شوہر کے غیظ و غضب کا سامنا کرنا پڑا جو اپنی بیوی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے تیار تھے۔
نابیری یوگینڈا کی جھیل کیوگا کے کنارے پر اپنے گاؤں کی خواتین کے ساتھ موجود تھیں کہ مگرمچھ انھیں دبوچ کر پانی میں لے گیا۔ اس کے بعد سے وہ کبھی نظر نہیں آئیں۔
اُن کے شوہر مبارک باتامبوز کو اس کا بہت صدمہ پہنچا کیونکہ نابیری حاملہ تھیں۔ اس لیے اس حادثے کے نتیجے میں انھوں نے نہ صرف اپنی بیوی کھو دی بلکہ ان کا نامولود بچہ بھی اسی مگرمچھ کی نذر ہو گیا۔
گذشتہ ہفتے مگرمچھ واپس آیا تو کسی نے انھیں کال کر کے کہا: ’مبارک، میرے پاس تمہارے لیے خبر ہے، جس مگرمچھ نے تمہاری بیوی کو مارا تھا وہ ہمارے سامنے ہے۔‘
50 سالہ مچھیرے نے یہ خبر سن کچھ دوستوں کے ہمراہ کر جھیل کا رخ کیا: ’وہ بہت بڑا مگرمچھ تھا، ایک درندے کی طرح۔ ہم نے اسے پتھر اور چھڑیاں ماریں مگر اس کا کچھ نہیں بگڑا۔‘
باتامبوز اپنے مقامی لوہار کے پاس چلے گئے اور اس سے کہا کہ میں ایک درندے کا مقابلہ کر رہا ہوں جس نے میری بیوی کو اور اس کے پیٹ میں بچے کو ہلاک کیا ہے اور میں اس سے بدلہ لینا چاہتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ مجھے ایک ایسا نیزہ بنا کر دو جو اس مگرمچھ کو ہلاک کر سکے۔
’لوہار نے مجھ سے پانچ ڈالر مانگے اور مجھے ایک نیزہ بنا کر دیا جس کے بارے میں باتامبوز نے بتایا کہ ’میرے لیے یہ ایک بڑی رقم تھی مگر جس نے مجھ سے میرا مستقبل چھینا میں اسے ضرور ہلاک کرنا چاہتا تھا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس نیزے کے ساتھ مسلح ہو کر باتامبوز نے مگرمچھ پر حملے کی تیاری کی جو ابھی تک جھیل کنارے موجود تھا۔ اُن کے دوست خوفزدہ تھے اور انھوں نے باتامبوز کو باز رکھنے کی کوشش کی۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
لیکن باتامبوز باز آنے والے نہیں تھے: ’میں اسے مارنے میں پہلی بار ناکام رہا مگر اب مجھے اس بات کی پروا نہیں تھی کہ میں زندہ رہوں یا نہیں، میں اسے نیزے سے ہی مارنا چاہتا تھا۔‘
یوگینڈا کے جنگلی حیات کے اہلکار اوسوالڈ تمیانا کا کہنا ہے کہ مگرمچھ چار میٹر سے زیادہ لمبا تھا اور اس کا وزن 600 کلوگرام تھا۔
باتامبوز نے کہا: ’میرے دل میں بہت زیادہ خوف تھا مگر اس نیزے کی وجہ سے میں کامیاب ہوا جس کے سرے پر میں نے رسی باندھ دی تھی تاکہ جب نیزے کا سرا مگرمچھ کے جسم میں اترے تو میں اسے کھینچوں تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ جسم کاٹتا ہوا نکلے۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’میں نے نیزے کو مگرمچھ کی ایک جانب مارا جبکہ میرے دوستوں نے اس کی پشت پر پتھر مار کر متوجہ کیا۔
’اس پر مگر مچھ خونخوار ہو کر مجھ پر جھپٹا اور لوگ خوفزدہ ہو گئے، مگر میں ڈٹا رہا کیونکہ میں مرنے سے خوفزدہ نہیں تھا۔ میں نے نیزہ مار کر رسی کھینچی جس سے مگر مچھ غصے میں آ گیا۔‘
مگرمچھ کو مارنے میں ڈیڑھ گھنٹہ لگا، جس کے دوران کبھی اس پر حملہ کیا جاتا اور کبھی پیچھے ہٹ کر داؤ پیچ استعمال کیے جاتے۔
مرے ہوئے مگرمچھ کو مکاریرے یونیورسٹی کمپالا لے جایا گیا جہاں ایک جانوروں کے ڈاکٹر ولفرڈ ایمنیکو نے اس کا معائنہ کیا۔ انھیں مگرمچھ کے پیٹ میں پنڈلی کی ہڈی ملی جو کسی انسان کی لگتی تھی مگر اس بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
چارلس ڈارون یونیورسٹی آسٹریلیا کے مگرمچھوں کے ماہر ایڈم بریٹن نے کہا کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ 12 ہفتے کے بعد ایک جانور کے پیٹ میں اس کے 12 ہفتے پرانے کھائے ہوئے انسان کی ہڈیاں ہوں۔
باتامبوز کا کہنا ہے کہ مقامی افراد انھیں ہیرو مانتے ہیں جس نے ایک درندے سے ان کی جان بچائی، مگر اندر سے وہ ایک دکھی انسان ہیں جس نے اپنی بیوی اور نامولود بچہ کھو دیا۔







