70 مگرمچھوں کے سر کہاں سے آئے، پولیس پریشان

نمکین پانی میں رہنے والے مگرمچھ جنھیں ’سالٹ واٹر کراکو ڈائل‘ کہا جاتا ہے، 23 فٹ تک لمبے اور ایک ٹن تک وزنی ہو سکتے ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشننمکین پانی میں رہنے والے مگرمچھ جنھیں ’سالٹ واٹر کراکو ڈائل‘ کہا جاتا ہے، 23 فٹ تک لمبے اور ایک ٹن تک وزنی ہو سکتے ہیں

آسٹریلیا میں پولیس ایک فریزر سے ملنے والے مگرمچھوں کے 70 سروں کے بارے میں تحقیقات کر رہی ہے کہ وہ کہاں سے آئے ہیں۔

ڈارون نامی شہر کے قریب واقع ایک قصبے میں اتوار کو جب چند نوجوانو ں نے ایک مارکیٹ کے پیچھے پھینکے ہوئے ایک فریزر کو کھولا تو اس میں مگرمچھوں کے سر پڑے ہوے تھے۔

بتایا جا رہا ہے کہ یہ سر نمکین پانی میں رہنے والے مگر مچھوں کے ہیں اور شمالی آسٹریلیا میں ان کے شکار پر پابندی ہے۔

واضح رہے کہ اس علاقے میں مگرمچھ کی کھال کی بہت مانگ ہے اور یہ ہینڈ بیگ اور جوتے بنانے میں استعمال ہوتی ہے۔

آسٹریلوی قانون کے مطابق کوئی بھی شخص اگر کسی ایسے جانور کا شکار کرتا ہوا پکڑا جائے جس کے شکار پر پابندی تو اسے 50 ہزار ڈالر جرمانہ یا پانچ سال تک کی سزا ہوسکتی ہے۔

آسٹریلوی نشریاتی ادارے اے بی سی سے بات کرتے ہوے محکمہ جنگلی حیات کے اہلکار ٹامی نیکلس کا کہنا تھا کہ ’ فریزر سے بہت بو آ رہی تھی اور ہر طرف کیڑے تھے ، بہت سے لوگ فریزر میں عجیب و غریب اشیا رکھتے ہیں۔‘

نمکین پانی میں رہنے والے مگرمچھ جنھیں ’سالٹ واٹر کراکو ڈائل‘ کہا جاتا ہے، 23 فٹ تک لمبے اور ایک ٹن تک وزنی ہو سکتے ہیں۔

آسٹریلیا میں تقریباً دو لاکھ سالٹ واٹر کراکو ڈائل ہیں اور 1970 سے ملک میں ان کے شکار پر پابندی ہے۔