زکا وائرس پھیلانے والے مچھروں کے خلاف ’اعلانِ جنگ‘

سنیچر قوم کو متحرک کرنے کا دن ہوگا جب ہزاروں فوجی اور سرکاری ملازمین گھروں اور دفتروں سے ایسے مچھروں کے خاتمے کے لیے کام کریں گے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسنیچر قوم کو متحرک کرنے کا دن ہوگا جب ہزاروں فوجی اور سرکاری ملازمین گھروں اور دفتروں سے ایسے مچھروں کے خاتمے کے لیے کام کریں گے

برازیل کی صدر دلما روسیف نے قوم کے نام اپنے ایک پیغام میں مہلک زکا وائرس پھیلانے والے مچھّروں کے خلاف جنگی پیمانے مہم چھیڑنے کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے ٹی وی کے لیے ریکارڈ کے گئے ایک پیغام میں کہا ہے کہ اس سلسلے میں سنیچر پوری قوم کو متحرک کرنے کا دن ہوگا جس کے دوران ملک کے ہزاروں فوجی اور سرکاری ملازمین گھروں اور دفتروں سے ایسے مچھروں کے خاتمے کے لیے کام کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ زیادہ تر مچھر لوگوں کے گھروں میں پنپتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ زکا وائرس پھیلانے والے ایڈیز ایجپٹ نامی مچھر سے لڑائی کے لیے وفاق نے مناسب رقم کا بند و بست کیا ہے کیونکہ یہ جنگ ہاری نہیں جا سکتی۔

ان کا کہنا تھا ’اس لڑائي میں ہم سبھی کو شریک ہونا چاہیے۔ ہمیں ہر شخص کی مدد اور خير سگالی چاہیے۔ تعارن کریں اور اپنے اہل خانہ اور اپنی برادری کو بھی اس کے لیے متحرک کریں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’میں اس بات بات زور دوں گی کہ چونکہ سائنس نے ابھی زکا وائرس کی ویکسین تیار نہیں کی اس لیے اس بیماری سے بچاؤ کا سب سے موثر طریقہ ایسے مچھّروں کے خلاف سخت ترین لڑائی ہے۔‘

صدر نے اس لڑائي میں سبھی کو شریک ہونے کی بات کہی اور کہا کہ تعارن کریں اور اپنے اہل خانہ اور اپنی برادری کو بھی اس کے لیے متحرک کریں

،تصویر کا ذریعہAg. Brasil

،تصویر کا کیپشنصدر نے اس لڑائي میں سبھی کو شریک ہونے کی بات کہی اور کہا کہ تعارن کریں اور اپنے اہل خانہ اور اپنی برادری کو بھی اس کے لیے متحرک کریں

برازیل کی صدر نے کہا کہ وہ اس موقع پر ماؤں اور مستقبل میں ہونے والی ماؤں کو خاص طور پر پیغام دینا چاہتی ہیں کہ ’ہم آپ کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے سب کچھ کریں گے، جو کچھ بھی ہم سے ہو سکے گا۔ ہم مائیکرو پیتھی سے متاثر ہونے والے بچوں اور ان کے خاندان والوں کی ہر ممکن حمایت اور مدد کریں گے۔‘

ادھر امریکہ اور اقوام متحدہ میں محکمہ صحت کے حکام نے برازیل پر اس بات کا الزام عائد کیا کہ وہ اس بارے میں کافی ڈیٹا یا نمونے نے نہیں فراہم کر رہا ہے جس سے اس بات کا تعین کیا جا سکے کا آیا یہ وائرس ہی غیر معمولی چھوٹے سر کے بچوں کی پیدائش میں اضافے کا ذمہ دار ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ اس بارے میں معلومات کی کمی ہی سے اس کی تشخیص، دوا اور ویکسین تیار کرنے میں بڑی رکاوٹ ہے۔

امریکہ اور یورپ میں لیبارٹریز کا کہنا ہے کہ انہیں اس وائرس کی ترویج کے متعلق موثر تحقیق کی لیے ضروری ہے کہ اس سے پہلے جو وبا پھیلی تھی اس کے بھی نمونے فراہم کیے جائیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ برازیل میں محققین اور انسٹی ٹیوٹ کے لیے تکنیکی سطح پر طور جینیاتی مواد کی، بشمول زکا وائرس سے متاثرہ خون کے نمونوں کو، تقسیم کرنا غیر قانونی ہے۔

خیال رہے کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے زکا وائرس کو عالمی سطح پر خطرہ قرار دیا جاچکا ہے اور اس حوالے سے ہنگامی اقدامات کیے جارہے ہیں۔

خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے اس وائرس سے ہزاروں کی تعداد میں چھوٹے سر والے بچوں کی پیدائش ہورہی ہے۔

دوسری جانب آسٹریلیا میں بھی زکا وائرس کے دو معاملے سامنے آئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ سڈنی کے دو رہائشی حال ہی میں کریبیئن ممالک سے لوٹے ہیں۔