کولمبیا: زِکا وائرس سے متاثرہ حاملہ خواتین میں دوگنا اضافہ

کولمبیا میں زکا وائرس سے متاثرہ حاملہ خواتین کی تعداد تقریباً دو ہزار ہو گئی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکولمبیا میں زکا وائرس سے متاثرہ حاملہ خواتین کی تعداد تقریباً دو ہزار ہو گئی ہے

جنوبی امریکہ کے ملک کولمبیا میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک ہفتے کے دوران زِکا وائرس سے متاثرہ حاملہ خواتین کی تعداد میں دوگنا اضافہ ہو گیا ہے۔

کولمبیا میں نیشنل ہیلتھ انسٹیٹیوٹ کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں زکا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 20 ہزار سے زائد ہے جبکہ ان میں تقریباً دو ہزار حاملہ خواتین ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت یعنی ڈبلیو ایچ او نے متنبہ کیا ہے کہ زکا وائرس ’خطرناک حد تک پھیل‘ رہا ہے اور رواں سال اس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 40 لاکھ ہونے کا خدشہ ہے۔

پیر کو ڈبلیو ایچ او کی ایک ملاقات میں اس بات کا جائزہ لیا جائےگا کہ آیا زکا وائرس کو عالمی سطح پر خطرے کے طور پر دیکھا جائے یا نہیں۔

یہ وائرس جنوبی امریکی خطے کے 20 ممالک میں اب تک پھیل چکا ہے تاہم برازیل اور اس کے بعد کولمبیا اس وقت خطے میں اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کی ڈائریکٹر ڈاکٹر مارگریٹ چین کا کہنا ہے کہ ’زکا وائرس معمولی خطرے سے ہنگامی صورتحال تک پہنچ گیا ہے اور اس کے دل دہلا دینے والے اثرات ہیں۔‘

دوسری جانب برازیل میں چھوٹے سروں والے بچوں کی پیدائش میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشندوسری جانب برازیل میں چھوٹے سروں والے بچوں کی پیدائش میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے

زکا وائرس کے بارے میں سب سے پہلے یوگینڈا میں سنہ 1947 میں معلوم ہوا تھا لیکن یہ وائرس اس سے قبل کبھی بھی اس حد تک نہیں پھیلا تھا۔

برازیل نے زکا وائرس کا پہلا کیس جنوبی امریکہ میں مئی 2015 میں رپورٹ کیا تھا۔

زکا وائرس کی علامات بہت معمولی سی ہیں۔ان علامات میں بخار، جوڑوں اور سر کا درد، جِلد پر لال اُبھار والے دھبّے اور آشوب چشم شامل ہیں۔

دوسری جانب برازیل میں مائکرو سفیلے سے متاثرہ بچوں کی پیدائش میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ برازیلی وزارتِ صحت نے اس بیماری کی وجہ سے غیر معمولی طور پر چھوٹے سر والے بچوں کی پیدائش کے 270 واقعات کی تصدیق کی ہے جبکہ ایسے 3448 واقعات کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔

اس وائرس اور غیر معمولی بیماری کے آپس میں تعلق کی تصدیق تو نہیں ہوئی ہے تاہم ڈاکٹر چین کا نے کہا ہے کہ ’یہ کافی حد تک ممکن ہو سکتا ہے اور کافی خطرناک ہے۔‘