’زکا وائرس کی ویکیسن میں دس برس لگ سکتے ہیں‘

عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ تقریباً تمام امریکی ممالک میں زکا وائرس کے پھیلنے کا امکان ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنعالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ تقریباً تمام امریکی ممالک میں زکا وائرس کے پھیلنے کا امکان ہے

امریکی سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ زِکا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین دستیاب ہونے میں دس برس لگ سکتے ہیں۔

امریکہ کی ٹیکساس یونیورسٹی کے شعبہ طب کے سائنسدان زِکا وائرس پر تحقیقات کر رہے ہیں۔

ان سائنسدانوں نے برازیل کا دورہ کیا اور وہاں سے وائرس کے نمونے حاصل کرنے کے بعد گالوسٹون میں سخت سکیورٹی حصار میں قائم لیبارٹری میں اس پر تجربات کر رہے ہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق ہو سکتا ہے کہ ویکیسن دو برس میں تجربات کے لیے تیار ہو جائے لیکن حکام سے اس کے عام استعمال کی اجازت حاصل کرنے کے عمل تک دس برس لگ سکتے ہیں۔

ٹیکساس کے علاقے گالوسٹون میں قائم لیبارٹری کا سکیورٹی کنٹرول پولیس اور وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ایف بی آئی کے پاس ہے۔

لیبارٹری سے پروفیسر سکاٹ ویوئیر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لوگ کا اس وائرس سے خوفزدہ ہونا ٹھیک تھا۔

’یقیناً اس سے قابل ذکر خطرہ ہے، اگر جنین متاثر ہو جائے اور سر چھوٹا ہونے کا عمل شروع ہو جائے تو اس کے نتائج کو تبدیل کرنے کی صلاحیت ہمارے پاس نہیں ہے اور بعض اوقات بچوں کی عمر بھر کے لیے ذہنی معذوری کا سبب بن سکتا ہے۔‘

دو دن پہلے ہی عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا تھا کہ تقریباً تمام امریکی ممالک میں زکا وائرس کے پھیلنے کا امکان ہے۔

یہ وائرس اب تک کیریبیئن، شمالی اور جنوبی امریکہ کے 21 ممالک میں پایا گیا ہے جس کے علامات میں بخار، آشوب چشم کی بیماری اور سر درد شامل ہیں۔

زکا وائرس مچھروں سے پھیلتا ہے
،تصویر کا کیپشنزکا وائرس مچھروں سے پھیلتا ہے

اس وائرس کے باعث ہزاروں بچوں میں سنگین پیدائشی نقائص ہونے کے خطرے کے پیشِ نظر کچھ ممالک نے خواتین کو حاملہ ہونےسے خبردار کیا ہے۔

یہ بیماری برازیل میں پھیلی ہوئی ہے۔ برازیل میں چھوٹے سر والے بچوں کی پیدائش کا سلسلہ جاری ہے اور اکتوبر سےاب تک اس بیماری سے متاثرہ چار ہزار بچے پیدا ہو چکے ہیں۔

اسی اثنا میں امریکہ کے محکمۂ صحت کے حکام نے حاملہ خواتین کو امریکہ اور اس سے باہر کم سے کم 20 ممالک کا سفر کرنے سے منع کیا ہے جہاں اس بیماری کے کیسز سامنے آئے ہیں۔

زِکا نامی یہ وائرس ايڈيز جیپٹی مچھر (ايک مَچھَر جِس سے زرد بُخار ہو جاتا ہے) کے کاٹنے سے جسم میں منتقل ہوتا ہے۔ اس مچھر کی وجہ سے ڈینگی بخار اور چکنگنیا (گرم ملکوں میں مچھر کے ذریعے پھیلنے والی ایک بیماری ) نامی بیماری بھی پھیلتی ہے۔