سانپوں کو بچانے والی خواتین کارکن

،تصویر کا ذریعہDanelocommonswiki

یہ کمزور دل والوں کا پیشہ نہیں ہے لیکن دنیا کے کچھ حصوں میں سانپوں کو بچانا، انھیں نیا گھر فراہم کرنا اور لوگوں کو بچانا ایک اہم کام ہے۔ امدادی تنظیم میڈیسنز سانز فرنٹیئر کے مطابق ہر سال 50 لاکھ کے قریب افراد سانپ کے ڈسے کا شکار ہوتے ہیں جن میں ایک لاکھ ہلاک اور چار لاکھ مستقل طور پر معذور ہوجاتے ہیں۔

بھارتی شہر ممبئی سے مادھورتا گپتا اور آسٹریلیا کے شہر برسبن نے جولیا بیکر نے بی بی سی کے ساتھ سانپوں کے ساتھ اپنے کام کے حوالے سے بات چیت کی۔

ڈاکٹر مودھورتا گپتا کا سانپوں کے ساتھ تعلق ان کے خاندان میں موجود تھا، ان کے والد نے بطور سائنسدان ان رپٹائلز کے ساتھ کام کیا تھا۔

انھوں نے پہلی بار 15 سال کی عمر میں سانپ پکڑا تھا اس تجربے کو ’سرد مہر خوف‘ قرار دیا تھا جو ’خدائی‘ تھا۔

انھوں نے مزید تعلیم کے لیے ایک ویٹرنیری کالج میں داخلہ لیا اور اپنے خاوند کے ساتھ سانپوں کی فلاح کے لیے سنیک کنزرویشن ٹرسٹ قائم کیا۔

دوسری جانب جولیا بیکر سانپوں کے ساتھ اس وقت محبت میں گرفتار ہوئیں جب انھوں نے 30 کے پیٹے کے اواخر میں ایک چڑیا گھر کا دورہ کیا۔

جولیا بیکر آسٹریلیا میں ایک ٹی وی پروگرام سنیک باس کی میزبانی کرتی ہیں

،تصویر کا ذریعہDeb Nash

،تصویر کا کیپشنجولیا بیکر آسٹریلیا میں ایک ٹی وی پروگرام سنیک باس کی میزبانی کرتی ہیں

وہ کہتی ہیں ’جب انھوں نے سانپ میری گردن کے گرد لٹکایا تو میرے واقعی آنسو نکل آئے۔ میں پیار میں گھرگئی، میرے جسم میں ہونے والی کیمیائی تبدیلی حیران کن تھیں۔‘

اب وہ آسٹریلیا میں ایک ٹی وی پروگرام سنیک باس کی میزبانی کرتی ہیں۔

بھارت میں ڈاکٹر گپتا نے سانپوں کو بچانے کے لیے خصوصی طور پر اپنی موٹر سائیکل تیار کی ہے جس میں ضرورت کے مطابق تمام آلات موجود ہوتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں: ’بچاؤ کرنے والے تمام آلات میرے پاس موجود ہیں۔ سانپ پکڑنے والی چھڑی، قینچی، نیٹ کٹرز اور یہ زہر کش تریاق کا سامان، ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ مجھے اس کا استعمال کرنا پڑ جائے۔‘

تاہم آسٹریلیا میں جولیا بیکر زہرکش تریاق اپنے ساتھ نہیں رکھتیں، یعنی جن کو سانپ نے کاٹا انھیں علاج معالجے کے لیے ہسپتال پہنچانے کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن وہ کہتی ہیں کہ نصف سے زائد سانپ جب کاٹتے ہیں تو وہ جسم میں اپنا زہر منتقل نہیں کرتے۔

جولیا بیکر کے مطابق اگر کوئی سانپ آپ کے گھر یا کمرے کے کسی کونے کھدرے میں رہتا ہے تو بعض اوقات اس کو تنہا چھوڑ دینا ہے سب سے بہتر ہوتا ہے۔

ھارت میں ڈاکٹر گپتا نے سانپوں کو بچانے کے لیے خصوصی طور پر اپنی موٹر سائیکل تیار کی ہے

،تصویر کا ذریعہDr Madhurita Gupta

،تصویر کا کیپشنھارت میں ڈاکٹر گپتا نے سانپوں کو بچانے کے لیے خصوصی طور پر اپنی موٹر سائیکل تیار کی ہے

وہ کہتی ہیں: ’میں کوشش کرتی ہوں اور لوگوں کو بھی اس کی حوصلہ شکنی کرتی ہوں کہ وہ ان کی جگہ تبدیل کریں کیونکہ آسٹریلیا میں ہمیں سانپوں کے ساتھ رہنا پڑتا ہے۔‘

’ایک اندازے کے مطابق برسبن میں میں 50 فیصد افراد کے گھر میں پائیتھون رہتے ہیں اور یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ چھتوں کے نچلے حصوں میں کوئی نہیں جاتا اور وہ چوہوں کو بھی دور رکھتے ہیں۔‘

جولیا بیکر کے مطابق آسٹریلیا میں 95 فیصد افراد کو سانپ اس وقت کاٹتے ہیں جو سانپ پکڑنے کے ماہر نہیں ہوتے، لیکن ان میں صرف سالانہ پانچ اموات ہوتی ہیں۔

وہ وضاحت کرتی ہیں کہ آسٹریلیا کی وسعت اور کم آبادی کی وجہ سے سانپوں کی کچھ اقسام بہت کم دیکھی جاتی ہیں، جیسا کہ انلینڈ ٹائیپن کی قسم جو دنیا کا سب سے زیادہ زہریلا سانپ ہے۔

ڈاکٹر گپتا کا کہنا ہے کہ بھارت میں اموات کی تعداد بہت زیادہ ہیں، 60 ہزار سالانہ تک۔

وہ کہتی ہیں: ’میرے خیال سے لوگوں میں ریپٹائلز کو بچانے کے دوران اس کے ساتھ سیلفی لینے کا رجحان بھی پایا جاتا ہے۔‘

’نوجوان نسل (سانپوں کو) کسی مہم یا فیس بک کے لیے تصویر کے لیے بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو مرتے ہیں کیونکہ وہ تربیت یافتہ نہیں ہیں۔‘

جولیا بیکر کے مطابق آسٹریلیا میں 95 فیصد افراد کو سانپ اس وقت کاٹتے ہیں جو سانپ پکڑنے کے ماہر نہیں ہوتے

،تصویر کا ذریعہDr Madhurita Gupta Deb Nash

،تصویر کا کیپشنجولیا بیکر کے مطابق آسٹریلیا میں 95 فیصد افراد کو سانپ اس وقت کاٹتے ہیں جو سانپ پکڑنے کے ماہر نہیں ہوتے

جولیا بیکر تسلیم کرتی ہیں کہ ایک پائیتھون کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے ہوئے اس نے انھیں کاٹ لیا تھا۔

’آپ بعض اوقات کچھ زیادہ ہی پراعتماد ہوجاتے ہیں اور میں نے اس کا سر چھوڑ دیا۔‘

’وہ گھوم گیا اور میرے بازو سے لپٹ گیا اور ہم 20 منٹ تک اس سے چھڑوا نہ سکے۔‘

جولیا بیکر نے ایک دوست کو فون کیا جس نے انھیں اس جانور پر پانی ڈالنے کا مشورہ دیا کہ ایسا کرنے سے وہ ہٹ جائے گا اور ایسا ہی ہوا۔

’میں صدمے سے بے ہوش ہو سکتی تھی۔ یہ بہت تکلیف دہ ہے۔‘

تاہم اس سے میرے کام میں تعطل نہیں آیا۔

’یہ ایک خوبصورت مخلوق ہے اور یہ دنیا اور لوگوں کے لیے بہت کچھ اچھا کرتے ہیں جو ہم محسوس نہیں کرتے۔‘