کوئلے کے منصوبوں سے عالمی حدت کا خطرہ

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, میٹ مک گرا
- عہدہ, ماحولیاتی نامہ نگار، بی بی سی نیوز، پیرس
اگر کوئلے سے ایندھن حاصل کرنے کے تمام طے شدہ منصوبوں کی تعمیر کی گئی تو عالمی حدت کو دو ڈگری تک محدود رکھنے کی تمام کوششیں کارگر ثابت نہیں ہوں گی۔
اس امر کا اظہار پیرس میں ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق کانفرنس میں ایک نئی تحقیق میں پیش کیا گیا ہے۔
<link type="page"><caption> پیرس کانفرنس، احتجاج اور سکیورٹی</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/multimedia/2015/11/151130_paris_climate_conference_pics_zz.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> عالمی ماحولیاتی کانفرنس کا مقصد ہے کیا؟</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/science/2015/11/151130_climate_change_paris_sh.shtml" platform="highweb"/></link>
محققین کا کہنا ہے کہ ان کی تعمیر سے سنہ 2030 تک دو ڈگری کے ہدف کے مقابلے میں اخراج چار گنا زیادہ ہوگا۔
ان کا کہنا ہے کہ تعمیراتی منصوبے بھارت اور چین جیسے ممالک کے کاربن کے اخراج میں کمی کے ایجنڈوں سے متصادم ہیں۔
کلائمیٹ ایکشن ٹریکر تجزیہ پیش کرتا ہے کہ دنیا بھر میں سنہ 2030 سے قبل 2440 کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں اس وقت موجود پلانٹوں سے اخراج میں 150 فیصد اضافہ ہوگا جو دو ڈگری ہدف سے مطابقت رکھتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن وہ تمام پلانٹ جو ابھی منصوبہ بندی کے مرحلے میں ہیں اگر ان کی تعمیر ہوجاتی ہے تو صورت حال کہیں زیادہ مایوس کن ہو جائے گی۔
تحقیقی ٹیم کے رکن ڈاکٹر نکلس ہوہنے کا کہنا ہے کہ ’اگر ان تمام کی تعمیر ہو جاتی ہے تو وہ سنہ 2030 میں 6.5گیگا ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کر سکتے ہیں۔
’اگر آپ ان میں پہلے سے موجود تمام بجلی گھر شامل کر لیں اور اگر وہ 2030 تک کام کرتے رہے تو سنہ 2030 میں کوئلے کے بجلی گھروں سے اخراج 12 گیگا ٹن تک پہنچ جائے گا اور یہ واقعی دو ڈگری سے 400 گنا زیادہ ہے۔‘
سائنس دانوں کا کہنا ہے دو ڈگری کا ہدف خطرناک حدت کی دہلیز ہے۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق درجہ حرارت صنعتی دور سے قبل زمانے کے مقابلے میں پہلے ہی ایک ڈگری زیادہ ہو چکا ہے۔
کوئلے سے متعلق تحقیق میں بھارت، چین، انڈونیشیا اور تمام یورپی یوبین سمیت آٹھ ممالک شامل ہیں۔ ان تمام ممالک نے قومی سطح پر کاربن کے اخراج کم کرنے کے حوالے سے منصوبے پیش کیے ہیں، جسے آئی این ڈی سی کا نام دیا گیا ہے، ان منصوبوں میں اخراج کو کم کرنے یا محدود کرنے کا یقین دلایا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
لیکن ان میں سے بیشتر ممالک کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر بھی کام کر رہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد کو جلد از جلد بجلی فراہم کی جا سکے۔
اس تحقیق میں شامل نیوکلائمیٹ انسٹی ٹیوٹ کے مارکس ہیگمین کہتے ہیں: ’نو میں سے سات ممالک کو ان کے کوئلے کے پلانٹ کے منصوبوں سے ان کے آئی این ڈی سیز کو خطرہ ہے۔‘
’اس سے کوئلے کے پلانٹوں سے اخراج میں اضافہ ہوگا اور اس سے اس ملک کی کوششوں کو دھچکہ لگے گا اور اس سے توانائی حاصل کرنے کے نئے ذرائع کی جانب منتقلی کی بدترین شکل سامنے آ سکتی ہے۔‘
محققین کا یقین ہے کہ بہت سارے ممالک میں اس تضاد کی وجہ سیاست ہے۔
حکومتوں کے مختلف محکموں کے مختلف منصوبے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اختیارات کی یہ لڑائیاں کاربن میں کمی کی پیش کش کرنے والے بیشتر ممالک میں ہیں جبکہ وہ کوئلے پر انحصار میں اضافہ کر رہے ہیں۔
کچھ شرکا کے مطابق ان متضاد اشاروں کے کوئلے یا گیس کے ایندھن سے چھٹکارا حاصل کرنےطویل المدت منصوبوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
کلائمیٹ اینالیٹکس کے بل ہیئر کا کہنا ہے کہ ’ڈی کاربنائزیشن ایک زہریلے لفظ کے طور پر سامنے آ رہا ہے، بہت سارے ممالک ڈی کاربنائزیشن کے مخالف دکھائی دے رہے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا آپ کو کوئلے سے چلنے والے پلانٹوں اور کاربن کے اخراج سے متعلق طویل المدت منصوبوں کے حوالے سے بات چیت کے درمیان لکیر کھینچنے کی ضرورت ہے۔
بھارت اور چین کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ انھوں نے طویل المدت منصوبوں کی مخالفت کی ہے۔
تاہم بھارت کے وزیرماحولیات پرکاش جاویدکر کا کہنا تھا کہ ’ہماری توانائی کا خرچ امریکہ کے مقابلے میں 12ویں اور یورپ کے مقابلے میں دسویں حصے پر مشتمل ہے، تو کیا آپ نہیں سمجھتے کہ ہمارے عوام کو بھی آگے بڑھنے اور توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے؟
’کیا وہ ہمیشہ تاریکی میں رہیں؟ کیا یہی انسانیت ہے؟ اسی وجہ سے مجھے تمام ذرائع سے بجلی کی ضرورت ہے۔ ہم اپنے قابل تجدید اہداف میں اگلے 15 برسوں میں دس گنا اضافہ کر رہے ہیں لیکن ہمیں کوئلے کی ضرورت ہے کیونکہ آگے بڑھنے کے لیے یہ ہمارے لوگوں کی ضرورت ہے۔‘







