عالمی ماحولیاتی کانفرنس کا مقصد ہے کیا؟

رواں سال فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ہونے والی ’سی او پی 21‘ کانفرنس کسی حل تک پہنچنے کا آخری موقع ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنرواں سال فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ہونے والی ’سی او پی 21‘ کانفرنس کسی حل تک پہنچنے کا آخری موقع ہے
    • مصنف, میٹ مک گرا
    • عہدہ, ماحولیاتی نامہ نگار، بی بی سی نیوز، پیرس

مختصر لفظوں میں بیان کیا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی آلودگی، مثلاً نامیاتی ایندھن یعنی گیس یا کوئلے کے استعمال کے نتیجے میں پیدا ہونے والی گیسوں کے اخراج پر قابو پانے کے لیے دنیا کی تمام حکومتوں میں باہمی اتفاق ہو گیا ہے۔

لیکن مسئلہ پھر بھی حل نہیں ہوتا۔

مشکلات کا آغاز تو جب ہوتا ہے جب 195 ممالک کواس بات پر متفق کرنا ہو کہ موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے سے ’کس طرح‘ نمٹا جائے۔ سنہ 1992 سے اب تک ہر سال تمام فریقوں کے مذاکرات کاروں کے ساتھ اس کانفرنس کا انعقاد کیا جاتا رہا ہے تاکہ باہمی رضامندی کے ساتھ ایک قابل عمل منصوبہ تشکیل دیا جاسکے۔

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ہونے والی ’سی او پی 21‘ کانفرنس کسی حل تک پہنچنے کا آخری موقع ہے۔ سنہ 2011 میں تمام مذاکرات کاروں نے یہ عہد کیا تھا کہ سنہ 2015 کے اختتام تک وہ کسی متفقہ معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔

ناقدین یہ کہہ سکتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ اتنا سنگین یا فوری طور پر حل طلب نہیں کیونکہ اس کے حل تک پہنچنے کے لیے 20 سال انتظار ممکن ہے۔

مسئلے کے حل تک پہنچنے کادفاع کرنے والے کہتے ہیں کہ اس فیصلے کے لیے اتنا وقت اس لیے درکار ہے تاکہ اس پر تمام فریقین کا اتفاق رائے ہو۔ یعنی جب تک تمام باتوں پر اتفاق نہیں، کسی بات پر بھی اتفاق نہیں۔ فریق سمجھتے ہیں کہ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود منصفانہ حل تک پہنچنے کا یہ بہترین راستہ ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اس سیارے پر ہم سب رہتے ہیں اور اس لیے اس معاملے میں سب کی رائے لینی چاہیے کہ اس سیارے کے ساتھ کیا ہو۔

 پیرس کانفرنس کا مقصدگرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنا ہے
،تصویر کا کیپشن پیرس کانفرنس کا مقصدگرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنا ہے

اس کانفرنس کا نام اتنا مختلف کیوں ہے؟

’سی او پی 21‘ اصل میں اقوام متحدہ کے تحت اس کے رکن ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدے میں شامل تمام فریقوں کی 21ویں کانفرنس ہے اور’21st کانفرنس آف دی پارٹیز ٹو دی یونائٹڈ نیشنز فریم ورک کنونشن آن کلائیمیٹ چینج‘ (ماحولیاتی تبدیلی پر اقوام متحدہ کے فریق ممالک کے تشکیل کردہ ڈھانچے کا 21واں اجلاس) کا محفف ہے۔

اس کانفرنس کا اتنا طویل نام سنہ 1992 میں برازیل کے شہر رِیو میں اقوام متحدہ کے تحت ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کے بارے میں فکرمند ممالک کےاجلاس کے موقعے پر رکھا گیا تھا۔

اس کانفرنس میں شریک ممالک نے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جسے سنہ 1994 میں نافذ کیا گیا تھا اور اسے اب امریکہ سمیت 195 ممالک کی توثیق حاصل ہے۔

اس معاہدے کا اہم مقصد ’ماحول میں گرین ہاؤس گیسوں کو کم کر کے اس درجے تک لانا ہے جس سے موسمیاتی نظام کو انسانی پیدا شدہ خطرناک آلودگی سے بچایا جا سکے۔‘

کانفرنس کے شرکا کون ہیں؟

کانفرنس میں ممکنہ طور پر دنیا بھر سے 40 ہزار کے قریب افراد کسی نہ کسی حوالے سے شرکت کریں گے۔

ان میں حکومتی وفود کی بڑی تعداد بھی شامل ہے جن میں زیادہ تر سرکاری افسران ہیں۔ یہ وفد دو افراد پر بھی مشتمل ہوسکتے ہیں اور امیر ممالک کے وفود ہونے کی صورت میں وفد کے اراکین کی تعداد سینکڑوں میں بھی ہو سکتی ہے۔

مختلف آجروں، صنعت کاروں، اور زراعت سے منسلک فریقین کے حقوق اور خواہشات کی عملبردار تنظیمیں اور افراد بھی شامل ہیں جبکہ ان کے ساتھ ساتھ مختلف ماحولیاتی تحفظ کے اداروں کے نمائندے بھی شرکت کریں گے۔

کانفرنس میں ممکنہ طور پر دنیا بھر سے 40 ہزار کے قریب افراد شرکت کریں گے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکانفرنس میں ممکنہ طور پر دنیا بھر سے 40 ہزار کے قریب افراد شرکت کریں گے

مذاکرات کاروں کو موثر سمجھوتے تک پہنچنے کی حوصلہ افزائی کے لیے اور اس موضوع پر تقاریر کے لیے سیاسی رہنما ایک دن کے لیے پیرس اجلاس میں شریک ہو رہے ہیں۔ ان کے ہمراہ ان کے ماحولیات کے وزرا بھی ہیں جو مذاکرات کے آخری دور میں سمجھوتے کو حتمی شکل دینے کی کوشش کریں گے۔

وہ کیا حاصل کرنے کی امید کر رہے ہیں؟

اپنے اردگرد کی دنیا میں ہر چیز پر نگاہ ڈالیں۔ جس فون یا لیپ ٹاپ پر آپ یہ مضمون پڑھ رہے ہیں، جو کھانا شاید آپ اس وقت کھا رہے ہیں، جو کپڑے آپ نے پہنے ہوئے ہیں، تقریباً ہر شے جو آپ دیکھ رہے ہیں، چھو رہے ہیں، محسوس کر رہے ہیں یا پھر کھا رہے ہیں، نامیاتی ایندھن کے ذریعے اگائی، بنائی، چلائی، اور آپ تک پہنچائی گئی ہے۔

یہ ایندھن ہمارے لیے بہت کارآمد رہے ہیں۔ انھی کے باعث ہم صنعتیں لگانے، ترقی کرنے، اور کروڑوں افراد کو غربت کی سطح سے اوپر لانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

لیکن ان ایندھنوں کے استعمال کے نتیجے میں جو کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا ہوتی ہے اس کے ’گرین ہاؤس اثرات‘ اور حدت کو اس سیارے کی فضا میں ہی روکے رکھنے کے واضح دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جب زمین کا درجۂ حرارت اس کے صنعتی دور سے قبل کے درجہ حرارت سے دو ڈگری اوپر چلا جائے گا تو ہمارے ماحولیاتی نظام پر اس کے خطرناک اور غیر متوقع اثرات مرتب ہوں گے۔ اور خطرناک مقام کا آدھا راستہ ہم پہلے ہی طے کر چکے ہیں۔

وہ ممالک جو شمسی توانائی اور پن بجلی جیسے توانائی کی قابلِ تجدید ذرائع پر منتقل ہونے کے متحمل نہیں ہوسکتے ان کے اخراجات کون اٹھائے گا؟

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنوہ ممالک جو شمسی توانائی اور پن بجلی جیسے توانائی کی قابلِ تجدید ذرائع پر منتقل ہونے کے متحمل نہیں ہوسکتے ان کے اخراجات کون اٹھائے گا؟

یہی وجہ ہے کہ پیرس کانفرنس کا مقصدگرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنا ہے۔ اور اس کے ساتھ تمام ممالک کے لیے اپنی معیشیت کی نمو کے ساتھ ترقی پذیر ممالک اور موسمیاتی شدتوں کے شکار ممالک کی معاونت کو ممکن بنانا ہے۔

کیا یہ اتنا ہی آسان ہے؟

یہ شاید دنیا کا آج تک کا سب سے زیادہ مشکل بین الاقوامی باہمی تعاون کا ایک مثالی خیال ہے۔

بنیادی اختلافی نکات کیا ہیں؟

اس تمام تر مشق کی آخری منزل ایسی دنیا کی تشکیل ہے جہاں کا درجہ حرارت سنہ 1850 سے 1899 کے درمیان رہنے والے دنیا کے درجہ حرارت سے تجاوز نہ کرے۔ اس طویل مدتی خواہش کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تمام ممالک پہلے ہی متفق ہو چکے ہیں۔ تاہم اس دنیا کے حصول تک پہنچنے کے لیے جامع نظام کی نوعیت پر ان ممالک میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔

ترقی پذیر ممالک کا کہنا ہے کہ وہ تیل، کوئلے اور گیس پر مشتمل نامیاتی ایندھن کے استعمال کا حق رکھنا چاہتے ہیں تاکہ اپنی عوام کو غربت سے باہر نکال سکیں۔ وہ کہتے ہیں کہ امیر ممالک کے پر 200 سال تک اس ایندھن کے استعمال پر کوئی پابندی عائد نہیں تھی اس لیے اب ان کی باری ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پیرس معاہدے میں ایک ایسا متوازن راستہ ڈھونڈنے کی ضرورت ہے جس کے تحت نامیاتی ایندھن کے استعمال کا حق دینے کے ساتھ ساتھ گرین ہاؤس گیسوں میں بھی کمی ممکن بنائی جا سکے۔

غریب ممالک کو بلند ہوتی ہوئی سمندری سطح، شدید خشک سالی، اور شدید گرمی کی لہر سے نمٹنے اور مطابقت پیدا کرنے کے لیے درکار وسائل کا خرچ کون برداشت کرے گا؟

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنغریب ممالک کو بلند ہوتی ہوئی سمندری سطح، شدید خشک سالی، اور شدید گرمی کی لہر سے نمٹنے اور مطابقت پیدا کرنے کے لیے درکار وسائل کا خرچ کون برداشت کرے گا؟

اہم سوال یہ ہے کہ اخراجات کون اٹھائے گا؟

وہ ممالک جو شمسی توانائی اور پن بجلی جیسے توانائی کی قابلِ تجدید ذرائع پر منتقل ہونے کے متحمل نہیں ہوسکتے ان کے اخراجات کون اٹھائے گا؟

غریب ممالک کو بلند ہوتی ہوئی سمندری سطح، شدید خشک سالی، اور شدید گرمی کی لہر سے نمٹنے اور مطابقت پیدا کرنے کے لیے درکار وسائل کا خرچ کون برداشت کرے گا؟

کیا مستقبل میں بڑھنے والے درجہ حرارت کے اثرات کا شکار ہونے والے ملک امیر ممالک پر ماضی میں ماحول کو آلودہ کرنے والی گیسوں کا اخراج کرنے پر مقدمہ دائر کر سکیں گے؟

یہ سب مشکل، نزاعی اور رائے منقسم کرنے والے نکات ہیں۔

اور جو سب سے اہم سوال ہے وہ منصفانہ حل ہے۔

امیر ممالک کا کہنا ہے کہ 1992 میں یو این ایف سی سی سی کے بعد سے دنیا بدل چکی ہے۔ اُس وقت دنیا آمدنی کی بنیاد پر ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں تقسیم تھی۔ لیکن اب وہ تقسیم اتنی واضح نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امیر ممالک چاہتے ہیں کہ بڑے پیمانے پر ابھرتی ہوئی معیشتیں بھی مستقبل میں ماحولیاتی تبدیلی پر آنے والے اخراجات میں اپنا حصہ ڈالیں۔

ترقی پذیر ممالک کا کہنا ہے کہ وہ تیل، کوئلے اور گیس پر مشتمل نامیاتی ایندھن کے استعمال کا حق رکھنا چاہتے ہیں تاکہ اپنی عوام کو غربت سے باہر نکال سکیں

،تصویر کا ذریعہThinkstock

،تصویر کا کیپشنترقی پذیر ممالک کا کہنا ہے کہ وہ تیل، کوئلے اور گیس پر مشتمل نامیاتی ایندھن کے استعمال کا حق رکھنا چاہتے ہیں تاکہ اپنی عوام کو غربت سے باہر نکال سکیں

کیا ان تمام باتوں سے کوئی تبدیلی آ سکتی ہے؟

ایک بڑی تبدیلی کا امکان۔

سائنس دانوں نے 1980کی دہائی میں اوزون کی تہہ میں ایک سوراخ دریافت کیا تھا۔ جس کے بعد دنیا کے تمام ممالک کے درمیان اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کینیڈا کے شہر مونٹریال میں ’مونٹریال پروٹوکول‘ کے نام سے ایک بین الاقوامی معاہدہ طے پایا تھا۔

اس معاہدے کے بعد دنیا نے اُن نقصان دہ گیسوں کا استعمال ترک کر دیا تھا جن کے باعث وہ سوراخ نمودار ہوا تھا اور جو اب مندمل ہو رہا ہے۔

ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے بھی اسی طرح کے طریقہ کار کی ضرورت ہے لیکن بہت وسیع پیمانے پر۔

پیرس میں ہونے والے معاہدے کے نتیجے میں ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے کے لیے دنیا گرین ہاؤس گیسوں کا استعمال کم سے کم کردے گی۔ تاہم سیاست اور مذاکرات کی مروجّہ حقیقتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک ایسا سمجھوتہ ہوگا جو ایک حد تک ہی ان مقاصد کے حصول کی راہ ہموار کر سکے گا۔

تاہم یہ توقع ضرور رکھی جائے گی کہ آنے والے دنوں میں مذاکرات مزید جامع ہوں گے اور مزید بہتر سمجھوتے کی راہ ہموار ہو گی۔

نا امیدی کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ دیکھیں کہ بنی نوع انسان صرف اپنے نئے اور بظاہر ناممکن خیالات کی بار بار تکرار کر کے، اور ان پر اس وقت تک کام کرکے جب تک وہ بہتر نہ ہو جائیں، کتنی ترقی کرگیا ہے۔اور اس کی سب سے عمدہ مثالیں سمارٹ فونز اور انٹرنیٹ ہیں۔

ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے بھی اسی طرح کے طریقہ کار کی ضرورت ہے لیکن بہت وسیع پیمانے پر

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے بھی اسی طرح کے طریقہ کار کی ضرورت ہے لیکن بہت وسیع پیمانے پر

ممکنہ ناکامی اور الجھاؤ کا شکار سمجھوتہ ہونے کے امکانات کے باوجود پیرس کانفرس کا سامنے آنے والا ایک اہم نتیجہ یہ ہوگا کہ مستقبل میں اس مسئلے کے حل کے لیے جو بھی قدم اٹھایا جائے گا وہ پائیدار ہو گا۔

اور یہ بنی نوع انسان کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔

اقوام متحدہ ماحولیاتی کانفرنس 30 نومبر ۔ 11 دسمبر 2015

سی او پی 21 یعنی تمام فریقین کے 21 ویں اجلاس کے دوران ہم ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے پیرس میں جمع ہونے والے 190 ممالک کے درمیان ممکنہ نیا بین الاقوامی ماحولیاتی معاہدہ ہوتے ہوئے دیکھیں گے۔ اس معاہدے کا مقصد انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی خطرناک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج اور ان کے اثرات کو کم سے کم کرنا ہوگا۔