ماحولیاتی تبدیلی پر عالمی کانفرنس سے قبل مظاہرے

اطلاعات کے مطابق ایک سو سے افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشناطلاعات کے مطابق ایک سو سے افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس کے آغاز سے قبل مظاہرے ہوئے ہیں۔

<link type="page"><caption> ماحولیاتی تبدیلی پر عالمی کانفرنس، معاہدے کے حق میں ریلیاں</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/science/2015/11/151129_paris_un_climate_change_conference_sr" platform="highweb"/></link>

پیر کو شروع ہونے والی اس کانفرنس میں 190 ممالک کے سربراہان اور مندوبین شریک ہیں اور اس سے 147 ممالک کے سربراہان خطاب کریں گے۔

13 نومبر کو ہونے والے حملوں کے بعد پیرس میں کانفرنس کے موقعے پر سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔

اس حوالے سے دنیا بھر میں 2000 سے زائد تقریبات اور ریلیاں منعقد کی گئیں۔ پیرس میں پولیس نےڈی لا ریپبلک کے مقام پر موجود مظاہرین کے ایک بڑے گروہ کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

11 دسمبر تک جاری رہنے والی کانفرنس میں تقریبا 40 ہزار افراد شرکت کریں گے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن11 دسمبر تک جاری رہنے والی کانفرنس میں تقریبا 40 ہزار افراد شرکت کریں گے

بتایا جا رہا ہے کہ یہ مظاہرین بظاہر فرانس میں ایمرجنسی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے تاہم کانفرنس کے موقع پر احتجاج کا انعقاد کرنے والے منتظمین نے اس گروہ سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

فرانس کے وزیرِ داخلہ برنار کیزنیو کے مطابق 208 افراد گرفتار کیے گئے، جن میں سے 174 اب بھی زیرِ حراست ہیں۔

خیال رہے کہ پیرس میں 13 نومبر کو ہونے والے حملوں کے بعد وہاں عوامی اجتماعات پر پابندی عائد ہے۔

پولیس سے جھڑپیں کرنے والے مظاہرین میں سے بہت سے ایسے تھے جنھوں نے اپنے چہروں کو چھپا رکھا تھا۔ پولیس اور مظاہرین نے جھڑپوں کے نتیجے میں 13 نومبر کے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی یادگار پر موجود پھولوں اور موم بتیوں کو بھی اپنے پاؤں تلے روند ڈالا۔

فرانس کے صدر نے اسے شرمناک اقدام قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ جھڑپیں کرنے والوں کا ماحول کے تحفظ سے کوئی تعلق نہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ پیرس میں ہونے والے حالیہ حملوں کے بعد کانفرنس میں معاہدے طے پا جانے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔

11 دسمبر تک جاری رہنے والی کانفرنس میں تقریباً 40 ہزار افراد شرکت کریں گے۔

کانفرنس میں کسی معاہدے پر پہنچنے کے حق میں دنیا بھر میں لاکھوں افراد ریلیوں میں حصہ لیں گے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکانفرنس میں کسی معاہدے پر پہنچنے کے حق میں دنیا بھر میں لاکھوں افراد ریلیوں میں حصہ لیں گے

اس سے قبل سنہ 2009 میں ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں ہونے والی کانفرنس میں مدوبین متفقہ معاہدے کے بہت قریب پہنچ گئے تھے۔

پیرس میں ہونے والی اس کانفرنس میں امریکی صدر براک اوباما اور چین کے صدر شی جن پنگ بھی شرکت کر رہے ہیں۔

مالدیپ سے تعلق رکھنے والے مندوب امجد عبداللہ کا کہنا ہے کہ ’مجھے لگ رہا ہے کہ کسی ڈیل تک پہنچنے کے امکانات روشن ہیں کیونکہ مختلف لوگوں سے بات کرنے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ وہ آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔‘

برطانیہ کے سابق مشیر برائے ماحولیاتی تبدیلی ٹام برکی کا کہنا ہے کہ بعض رہنما یہ کہیں گے کہ عالمی حدت میں اضافے پر قابو پانے سے ہم دہشت گردی کی وجوہات کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔

پیرس میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد مظاہروں پر پابندی کے باعث مظاہرین کا احتجاج کا انوکھا انداز

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنپیرس میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد مظاہروں پر پابندی کے باعث مظاہرین کا احتجاج کا انوکھا انداز