’دنیا میں ماحولیاتی تبدیلی سے بڑا خطرہ کوئی نہیں‘

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ کے صدر براک اوباما نے ماحولیاتی تبدیلی کو دنیا کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس مسئلے کو مزید نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
سنیچر کو اپنے ہفتہ وار خطاب میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ اپنے بچوں اور نواسے نواسیوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ کہہ سکیں کہ ماحولیات کے بحران سے نمٹنے کے لیے جو کچھ ممکن تھا وہ انھوں نے کیا۔
یاد رہے کہ حال ہی میں صدر اوباما نے امریکہ میں فضاء کو آلودہ کرنے والی گیسوں میں واضح کمی کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
ہفتہ وار خطاب میں صدر براک اوباما کا کہنا تھا کہ ’آج ہمارے سیّارے کو جن خطرات کا سامنا ہے ان میں سے ماحولیاتی تبدیلی سے بڑا خطرہ کوئی نہیں ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2014 ہماری تاریخ کا گرم ترین سال تھا۔ ہماری تاریخ کے 15 گرم ترین سالوں میں سے 14 سال ایسے ہیں جو موجودہ صدی کے پہلے 15 سالوں میں سے ہیں۔‘
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ’کانگریس میں ہمارے کچھ ساتھی کہتے ہیں کہ اِس موسم سرما میں ہمارے ملک کے کئی علاقوں میں بہت سردی پڑی، لیکن اگر دنیا بھر میں دیکھیں تو یہ موسم سرما تاریخ کا گرم ترین موسم سرما رہا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ حقیقت ہے کہ عالمی حدت میں تبدیلی آ رہی ہے اور اس حقیقت کے ہمارے آج کل کے طرز زندگی پر بہت گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔(اس کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جیسے) شدید تر طوفان، خشک سالی کے طویل تر دور اور جنگل میں آگ کے طویل دور۔‘
اوباما نے کہا کہ ’دنیا کے ماحولیات کے بڑے بڑے سائنسدان ہمیں خبردار کر رہے ہیں کہ ماحولیاتی تبدیلی نے اس ہوا کو متاثر کرنا شروع کر دیا جس میں ہمارے بچے سانس لیتے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ امریکہ دنیا میں سب سے زیادہ گرین ہاؤس گیسیں پیدا کرنے والا ملک ہے اور صدر اوباما کا یہ بیان اس برس دسمبر میں ماحولیات کی عالمی سربراہ کانفرنس کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
امریکی صدر کے مضرگیسوں کے اخراج کو کم کرنے کے منصوبوں کو ریپبلکن پارٹی کے ارکان کی اکثریت سے شدید مخالفت کا سامنا ہے کیونکہ ریپبلکنز کا کہنا ہے کہ صدر اوباما کے ان منصوبوں سے امریکی کاروبار متاثر ہوں گے۔







