لیما میں ماحولیاتی معاہدے پر اتفاقِ رائے ہوگیا

،تصویر کا ذریعہReuters
پیرو کے دارالحکومت لیما میں منعقدہ اقوام متحدہ کی عالمی کانفرنس میں تنظیم کے رکن ممالک ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے بارے میں ابتدائی معاہدے پر متفق ہوگئے ہیں۔
اس اجلاس کی صدارت کرنے والے پیرو کے وزیرِ ماحولیات مینوئل پلگر ویڈال کا کہنا ہے کہ مندوبین نے بات چیت کے لیے وسیع تر خاکے کی منظوری دے دی ہے جو 2015 میں ہونے والے معاہدے کی بنیاد بنے گا۔
حتمی معاہدے کی تفصیلات پیرس میں ماحولیات پر ہونے والے عالمی سربراہی اجلاس میں طے کی جائیں گی۔
عالمی ماحولیاتی تنظیموں نے لیما میں طے پانے والے معاہدے کو کمزور اور غیرموثر سمجھوتہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے عالمی ماحولیاتی قوانین بھی کمزور ہوئے ہیں۔
لیما میں موجود بی بی سی کے میتھیو میگراتھ کا کہنا ہے کہ اجلاس میں شریک 194 ممالک میں سے سب کو اپنی مرضی کی چیز تو نہیں ملی لیکن کچھ نہ کچھ ضرور ملا ہے۔
مینوئل پلگر ویڈال نے معاہدے کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ ’اگرچہ متن بہترین نہیں ہے لیکن اس میں فریقین کے موقف شامل ہیں۔‘
واضح رہے کہ دو ہفتے جاری رہنے والے مذاکرات میں گلوبل وارمنگ کی سطح اور منصوبے کے بارے میں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان اختلافات موجود تھے۔

،تصویر کا ذریعہAP
امید ظاہر کی جا رہی تھی کہ یہ مذاکرات جمعے کو مکمل ہو جائیں گے لیکن یہ اس کے بعد بھی جاری رہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اتوار کو بھی ترقی پذیر ممالک نے معاہدے کا ابتدائی مسودہ مسترد کر دیا جس میں امیر ممالک پر ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے کم ذمہ داریاں ڈالی گئی تھیں۔
جس مسودے پر اتفاق ہوا ہے اس میں غریب ممالک کے خدشات کا اظہار یوں کیا گیا ہے کہ دونوں قسم کے ممالک کی ’ذمہ داریاں ایک جیسی بھی ہیں لیکن ان میں فرق بھی ہے۔‘
معاہدے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بڑھتے ہوئے عالمی درجۂ حرارت کی وجہ سے زیادہ غریب ممالک کو جو مالی نقصان ہو گا اس کا ازالہ کرنے کے لیے ایک منصوبہ شروع کیا جائے گا۔
تاہم اس میں انفرادی طور پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کے وعدوں کے بارے میں نرمی برتی گئی ہے۔

اس سے قبل امریکی مندوبین کے سربراہ نے بات چیت کی ناکامی کے بارے میں متنبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر مذاکرات کار کسی معاہدے تک پہنچنے ناکام رہتے ہیں تو یہ ’بڑی خرابی‘ کا باعث ہو سکتا ہے۔
مذاکرات میں انٹنڈڈ نیشنلی ڈیٹرمائنڈ کنٹریبیوشن (آئی این ڈی سیز) یعنی ملکی سطح پر آلودگی کم کرنے کے عہد کے اشاریے کو ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس کے تحت ترقی یافتہ ممالک موسمیاتی تبدیلیوں کے بارے میں یہ عہد کریں گے کہ وہ آئندہ مارچ تک ان سے کیسے نمٹیں گے۔
پیرو میں دنیا بھر سے لوگوں کی آمد کا مقصد ان عہد کی جزیات پر کام کرنا ہے لیکن ابھی تک یہ بہت آسان نہیں رہا ہے۔
دنیا میں کاربن کے بڑے اخراج کرنے والے امریکہ اور یورپ کی خواہش ہے کہ معاہدہ صرف کاربن اخراج میں کمی پر مرکوز رہے اور وہ اس میں ترقی پذیر ممالک چین اور بھارت کو بھی شامل کرنا چاہتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
تاہم ترقی پذیر ممالک اس زمرے میں شامل ہونے کے شدید مخالف ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ امیر ممالک کا غریب ممالک کے لیے خاطر خواہ مالی تعاون بھی معاہدے میں شامل ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ اس تصور نے دنیا کو امیر اور غریب ممالک میں تقسیم کر دیا تھا جس میں امیر ممالک پر کاربن کے اخراج میں کمی کی ذمہ داری تھی جبکہ غریب ممالک اس سے بری الذمہ تھے۔
ملائیشیا کے نمائندے نے پرانی روش کو برقرار رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا: ’آپ میں سے بہت سوں نے ہمیں کالونی بنایا اس لیے ہم نے بہت مختلف جگہ سے آغاز کیا۔ آپ کو اس بات کو تسلیم کرنا چاہیے۔‘
انھوں نے خبردار کیا کہ ’آپ کی دنیا سے مختلف دنیا بھی یہاں آباد ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
مذاکرات میں برازیل کی نمائندگی کرنے والے اینٹونیو مارکونڈیز نے کہا: ’جی 77 کا یہ مستحکم موقف ہے کہ یہ تمام مشق معاہدے کو از سر نو تیار کرنے کی غرض سے نہیں کیے گئے۔‘
بحث اس بات پر بھی رہی کہ نئے معاہدے پر دستخط سے قبل اس میں کسی قسم کا ریویو سسٹم بھی شامل کیا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ یہ مذاکرات یکم دسمبر سے 12 دسمبر تک جاری رہے جس میں مجموعی طور پر 195 ممالک نے حصہ لیا۔







