موسمیاتی تبدیلی: دنیا کی عدم توجہ

،تصویر کا ذریعہGetty
نیو یارک میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون اور اداکار لیونارڈو ڈی کیپریو موسمیاتی تبدیلی پر دنیا کی توجہ مبذول کرانے کے لیے اتوار کو ہزاروں افراد کے ساتھ ایک مارچ میں شرکت کر رہے ہیں۔
’پیپلز کلائیمیٹ مارچ‘ کے نام سے منظم کئے گئے اس مارچ کا مقصد دنیا کی توجہ اس جانب مبذول کرانا ہے کہ کہ کاربن کے اخراج میں کمی لانے کا مسئلہ کتنا حل طلب ہے۔ مین ہیٹن میں ہونے والے مظاہروں کی طرح دنیا بھر میں ایسے 2000 مظاہرے ہو رہے ہیں۔
منگل کو بان کی مون اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں 125 ممالک کےسربراہان کے ساتھ موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے پر بحث کریں گے۔ اس اجلاس کا مقصد موسمیاتی تبدیلی کے مسئلہ پر ایک عالمی معاہدہ پر اتفاق راۓ قائم کرنا ہے، جس پر دنیا کے تمام ممالک 2015 تک دستخط کریں گے۔
2009 میں کوپن ہیگن میں بھی اسی طرح کی ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا لیکن وہ اس کے نتائج زیادہ حوصلہ افزا نہیں تھے۔

مارچ کے آغاز سے پہلے خطاب کرتے ہوئے بان کی مون کا کہنا تھا کہ وہ موسمیاتی تبدیلی کے مسائل کی طرف فوری توجہ دینے کی حمایت کرتےہیں۔
انھوں نے کہا کہ’میں اس مارچ میں شرکت کرنے والوں کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر چلوں گا‘۔
مارچ میں بان کی مون کے ساتھ ’وولف آف وال سٹریٹ‘ فلم کے مشہور اداکار لیونارڈو ڈی کیپریو شامل ہوں گے جن کو حال ہی میں موسمیاتی تبدیلی کے لیے اقوام متحدہ کا نمائندہ خصوصی مقرر کیا گیا ہے۔
منتظمین نے نیوگنی، لاگوس، لندن اور ریو جیسے بڑے شہروں میں یہ مارچز منظم کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ منگل کو اقوام متحدہ کی میٹنگ میں شرکت کرنے والے عالمی راہنما دنیا بھر میں ہونے والے مظاہروں کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بان کی مون نے اقوام متحدہ کی میٹنگ میں شرکت کرنے والے سیاسی رہنماؤں سے درخواست کی کہ وہ اس اجلاس میں اپنے ملکوں میں کاربن کی اخراج کو کم کرنے کے کیے اقدامات کا وعدہ کریں ۔







