ماحولیات کے عالمی معاہدے پر اتفاقِ رائے کے لیے کوششیں جاری

برازیل میں ساؤ پاؤلو میں خشک سالی کا منظر

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنبرازیل میں ساؤ پاؤلو میں خشک سالی کا منظر

پیرو کے دارالحکومت لیما میں موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق مذاکرات آخری دن مقررہ وقت سے زیادہ دیر تک جاری رہے تاکہ کسی عالمی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔

مذاکرات میں حصہ لینے والوں کو ایک ایسے جامع معاہدے کی تیاری کا کام دیا گیا ہے جس پر آئندہ سال پیرس میں ہونے والی عالمی کانفرنس میں دستخط کیے جا سکیں۔

تاہم امیر اور غریب ممالک کے درمیان ایک عرصے سے جاری اختلافات اس سمت کسی پیش قدمی میں حائل رہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے جذباتی اپیل کرتے ہوئے متبنہ کیا ہے کہ دنیا ’اب بھی اس راستے پر گامزن ہے جس کا انجام المیے پر ہو گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں کسی معاہدے پر پہنچنا ’صرف اختیاری نہیں بلکہ اشد اور فوری ضرورت ہے۔ ‘

واضح رہے کہ مذاکرات کار لیما میں تقریبا دو ہفتوں سے نئے معاہدے کے لیے دستاویز تیار کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔

مذاکرات کے دوران امیر اور غریب ممالک کی خلیج قائم رہی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمذاکرات کے دوران امیر اور غریب ممالک کی خلیج قائم رہی

مذاکرات کے چیئر مین کی جانب سے کسی فیصلے پر پہنچنے کے لیے ایک نیا متن پیش کیا گيا لیکن ماحولیاتی گروپس کا کہنا ہے کہ یہ بہت کمزور ہے اور اس میں بہت سے اہم مسائل حل طلب ہیں۔

اپنے خطاب میں جان کیری کا کہنا تھا کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے حوالے سے کسی ملک کو بھی مزید ’کھلی چھوٹ‘ نہیں ملنی چاہیے۔

امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا: ’ہم جانتے ہیں کہ ترقی پذیر ممالک کے لیے ایسا کرنا مشکل ہے تاہم ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ دنیا میں نصف سے زیادہ گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج انھی ممالک سے ہو رہا ہے اور اس لیے یہ ضروری ہے کہ وہ بھی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کریں۔‘

جان کیری نے کہا کہ کسی ملک کو بھی مزید ’کھلی چھوٹ‘ نہیں ملنی چاہیے
،تصویر کا کیپشنجان کیری نے کہا کہ کسی ملک کو بھی مزید ’کھلی چھوٹ‘ نہیں ملنی چاہیے

تاہم متعدد ترقی پذیر ممالک کے گروپ جی 77 نے امریکی وزیرِ خارجہ کی اس تجویز کی مخالفت کی ہے۔

مذاکرات میں برازیل کی نمائندگی کرنے والے اینٹونیو مارکونڈیز نے کہا: ’جی 77 کا یہ مستحکم موقف ہے کہ یہ تمام مشق معاہدے کو از سر نو تیار کرنے کی غرض سے نہیں کیے گئے۔‘

بحث اس بات پر بھی رہی کہ نئے معاہدے پر دستخط سے قبل اس میں کسی قسم کا ریویو سسٹم بھی شامل کیا جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ یہ مذاکرات یکم دسمبر سے 12 دسمبر تک جاری رہے جس میں مجموعی طور پر 195 ممالک نے حصہ لیا۔