ماحولیات کے عالمی معاہدے پر اتفاقِ رائے کے لیے کوششیں جاری

،تصویر کا ذریعہAP
پیرو کے دارالحکومت لیما میں موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق مذاکرات آخری دن مقررہ وقت سے زیادہ دیر تک جاری رہے تاکہ کسی عالمی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔
مذاکرات میں حصہ لینے والوں کو ایک ایسے جامع معاہدے کی تیاری کا کام دیا گیا ہے جس پر آئندہ سال پیرس میں ہونے والی عالمی کانفرنس میں دستخط کیے جا سکیں۔
تاہم امیر اور غریب ممالک کے درمیان ایک عرصے سے جاری اختلافات اس سمت کسی پیش قدمی میں حائل رہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے جذباتی اپیل کرتے ہوئے متبنہ کیا ہے کہ دنیا ’اب بھی اس راستے پر گامزن ہے جس کا انجام المیے پر ہو گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں کسی معاہدے پر پہنچنا ’صرف اختیاری نہیں بلکہ اشد اور فوری ضرورت ہے۔ ‘
واضح رہے کہ مذاکرات کار لیما میں تقریبا دو ہفتوں سے نئے معاہدے کے لیے دستاویز تیار کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
مذاکرات کے چیئر مین کی جانب سے کسی فیصلے پر پہنچنے کے لیے ایک نیا متن پیش کیا گيا لیکن ماحولیاتی گروپس کا کہنا ہے کہ یہ بہت کمزور ہے اور اس میں بہت سے اہم مسائل حل طلب ہیں۔
اپنے خطاب میں جان کیری کا کہنا تھا کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے حوالے سے کسی ملک کو بھی مزید ’کھلی چھوٹ‘ نہیں ملنی چاہیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا: ’ہم جانتے ہیں کہ ترقی پذیر ممالک کے لیے ایسا کرنا مشکل ہے تاہم ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ دنیا میں نصف سے زیادہ گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج انھی ممالک سے ہو رہا ہے اور اس لیے یہ ضروری ہے کہ وہ بھی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کریں۔‘

تاہم متعدد ترقی پذیر ممالک کے گروپ جی 77 نے امریکی وزیرِ خارجہ کی اس تجویز کی مخالفت کی ہے۔
مذاکرات میں برازیل کی نمائندگی کرنے والے اینٹونیو مارکونڈیز نے کہا: ’جی 77 کا یہ مستحکم موقف ہے کہ یہ تمام مشق معاہدے کو از سر نو تیار کرنے کی غرض سے نہیں کیے گئے۔‘
بحث اس بات پر بھی رہی کہ نئے معاہدے پر دستخط سے قبل اس میں کسی قسم کا ریویو سسٹم بھی شامل کیا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ یہ مذاکرات یکم دسمبر سے 12 دسمبر تک جاری رہے جس میں مجموعی طور پر 195 ممالک نے حصہ لیا۔







