’موسمیاتی اجلاس کا نتیجہ خوش آئند ہے‘

ماحولیاتی اجلاس
،تصویر کا کیپشنماحولیاتی اجلاس کے نتائج ایک نیا آغاز ہیں: چین

چین اور انڈونیشیا نے کوپن ہیگن میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اجلاس کے نتائج کا خیرمقدم کیا ہے۔

ادھر امدادی اداروں اور ماحول کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس اجلاس کے نتائج پر مایوسی ظاہر کی ہے۔

<link type="page"><caption> کوپن ہیگن معاہدے کا مسودہ (انگریزی)</caption><url href="http://unfccc.int/resource/docs/2009/cop15/eng/l07.pdf" platform="highweb"/></link>

اس سے قبل اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ عالمی ماحولیاتی اجلاس میں بات چیت کا نتیجہ مکمل طور پر ویسا نہیں نکلا جس کی لوگوں کو امید تھی۔اجلاس کے اختتام پر اپنے خطاب میں بان کی مون نے کہا تھا کہ یہ معاہدہ ایک ’ضروری ابتداء‘ ہے۔

تاہم چین اور انڈونیشیا کے رہنماؤں نے اس اجلاس کے نتائج کو خوش آئند قرار دیا ہے۔چین کے وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ ایک نیا آغاز ہے جبکہ انڈونیشیا کے صدر نے اس پر مسرت ظاہر کی ہے۔ اس سے قبل امریکی صدر براک اوباما نے بھی کہا ہے کہ یہ آنے والے برسوں میں عالمی کوششوں کی بنیاد ہے۔

چینی وزیرِ خارجہ یئنگ جی چی کا کہنا تھا کہ ’ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک پر کاربن اخراج کے حوالے سے مختلف ذمہ داریاں ہیں اس لیے انہیں ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے الگ الگ ذمہ داریاں اور فرائض سونپنے چاہیئیں‘۔ ادھر انڈونیشیا کےصدر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’انڈونیشیا خوش ہے کہ ہم نے اپنی زمین اور اپنے بچوں کے تحفظ کے لیے دلجمعی سے کام کیا ہے‘۔

دریں اثناء امدادی اداروں اور ماحول کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس معاہدے کو ناکامی قرارد یا ہے جبکہ اقوامِ متحدہ کے سائنسدانوں نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ اجلاس کا نتیجہ دراصل ایک آغاز ہے تاہم انہوں نے اقوامِ عالم سے کہا ہے کہ وہ اس معاہدے پر عمل کو لازمی بنائیں۔

خیال رہے کہ جمعہ کو پانچ اہم ملکوں کے ایک گروپ نے جس کی قیادت امریکہ کر رہا ہے کوپن ہیگن اجلاس میں ایک مسودہ پیش کیا تھا اور اس مسودے کے بارے میں امریکی صدر براک اوباما نے کہا تھا کہ یہ ایک ’بامعنی‘ معاہدہ ہے۔ اس معاہدے کو چند ترقی پذیر ممالک نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ یہ معاہدہ ایسے اقدامات وضع نہیں کرتا جن سے خطرناک موسمی تبدیلیوں کو روکا جا سکے۔ معاہدے کی مخالف اقوام میں نکاراگوا اور وینزویلا اور کیوبا جیسے لاطینی امریکی ممالک شامل تھے۔

تاہم بعد ازاں اجلاس نے اس مسودے کی جسے کوپن ہیگن معاہدے کا نام دیا گیا تھا، منظوری دے دی تھی تاہم یہ منظوری مکمل اتفاقِ رائے سے نہیں دی گئی تھی۔

ماحولیات کے بارے میں بی بی سی کے نامہ نگار رچرڈ بلیک کے مطابق ایسا نہیں لگتا کہ معاہدے کے نتیجے میں درجہ حرارت کو دو سنٹی گریڈ کی اس حد کے اندر رکھنا ممکنہ ہوگا جو کہ اقوامِ متحدہ کے سائنسدانوں کے مطابق بڑی ماحولیاتی تبدیلیوں سے بچنے کے لیے ضروری ہے۔