ماحولیاتی تبدیلیوں پر عالمی کانفرنس

اقوام متحدہ کے ارکان جنیوا میں ہونے والی ماحولیاتی یا موسمی تبدیلی کی پانچ روزہ کانفرنس کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔ اس کانفرنس میں ان ممالک کی مدد کے لیے اقدامات پر غور کیا جائے گا جو ان تبدیلیوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب اور قحط سے متاثر ہو رہے ہیں۔
اس کانفرنس میں اس نظام کو بھی حتمی شکل دی جائے گی جس سے دنیا کے تمام ممالک کو سونامی اور سمندری طوفان کے بارے میں پیشگی اطلاع دی جا سکے۔
کانفرنس میں ان اقدامات پر بھی غور کیا جائے گا جس کے تحت افریقہ کے دور دراز علاقے کے کسانوں کو قحط اور سیلاب کے بارے میں آگاہ کیا جا سکے۔
دوسری طرف برطانیہ کے دو وزیر اس ہفتے جنوبی ایشیا کا دورہ کریں گے جہاں وہ خود مشاہدہ کریں گے کہ موسموں میں تبدیلیوں سے کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ان وزیروں میں انٹرنیشنل ڈیولپمینٹ سکریٹری ڈگلس ایلیگزینڈر اور توانائی اور موسمی تبدیلی کے سکریٹری ایڈ میلی بینڈ شامل ہیں۔ وہ اپنے دورے میں بنگلا دیش اور بھارت جائیں گے۔ بھارت اور بنگلا دیش کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ دونوں ممالک عالمی حدت میں اضافے کے باعث سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔
یہ دورہ اس وقت کیا جا رہا ہے جب رواں سال دسمبر میں کوپن ہیگن میں موسمی تبدیلی کے حوالے سے اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔
بنگلا دیش کو اس دورے کا حصہ اس لیے بنایا گیا ہے کہ موسمی تبدیلی کے حوالے سے اس ملک کی حیثیت بہت دلچسپ ہے۔ بنگلہ دیش کے شمال میں ہمالیہ ہے جس کی برف پگھلنے سے سیلاب آتے ہیں اور بعد میں بدترین قحط۔ اس کے جنوب میں خلیج بنگال ہے جس کی بڑھتی ہوئی سطح کی وجہ سے دو ہزار پچاس تک ساحلی علاقے زیر آب آنے کی وجہ سے لاکھوں افراد بے گھر ہو سکتے ہیں۔



