ماحولیاتی تبدیلی : سد باب پر مذاکرات ناکام

جرمنی کے شہر بون میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے سد باب کے لیے امیر اور غریب ملکوں میں ہونے والے مذاکرات میں اتفاق رائے نہ ہوسکا۔
امریکی نمائندے کا کہنا ہے کہ کچھ ملکوں نے اس سے پہلے کوپن ہیگن کے اجلاس میں مضر گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کے جو وعدے کیے تھے وہ پورے نہیں کیے۔
امریکی اہلکار نے جوناتھن پرشنگ صورتحال پر تشویش ظاہر کیا ہے۔
مسٹر پرشنگ نے کہا کہ صنعتی طور پر ترقی یافتہ بڑے ملکوں نے زہریلی گیسوں کے اخراج کو کنٹرول نہیں کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ کر ۂ ارض میں آنے والی تباہ کن تبدیلیوں کے اثرات بہت تیزی سے سامنے آنے شروع ہو گئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ درجہ حرارت میں بے انتہا اضافہ، پاکستان میں حالیہ بارشوں کے نتیجے میں تباہ کن سیلاب اور روس میں درجہ حرات بڑھ جانے کے باعث جنگلات میں لگنے والی آگ ماحولیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔

انھوںنے کہا کہ اگر صورتحال کو جلد ہی درست نہ کیا گیا تو اس قسم کے مزید واقعات ہونگے۔
واضح رہے کہ گزشتہ بر کوپن ہیگن میں ہونے والی کانفرنس میں اس ضرورت کا احساس کیا گیا تھا کہ درجہ حرات کو دو درجے سینٹی گریڈ سے زیادہ نہ بڑھنے دیا جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک معاہدے کے تحت یہ بھی طے پایا تھا کہ کہ امیر ملک دو ہزار بیس تک غریب ملکوں کو ایک سو ارب ڈالر کی امداد دیں گے تاکہ وہ ماحولیات میں تبدیلی کے اثرات سے نمٹ سکیں۔
یورپی یونین کے نمائندے نے بھی بون مذکرات کے نتیجہ خیز نہ ہونے پر مایوسی کا اظہار کیا۔
تینتالیس چھوٹے ملکوں کا کہنا ہے کہ امریکہ میں ماحولیات میں تبدیلی کی روک تھام کے لیے قانون کا نہ ہونا مذاکرات میں ناکامی کی ایک بڑی وجہ ہے۔
تاہم اقوام متحدہ کی ماحولیاتی امور سے متعلق ایک اعلیٰ اہلکار کرسٹیانا کا کہنا ہے کہ حتمی معاہدے کی جانب پیش رفت ہوئی ہے۔







