ماحولیاتی تبدیلی: انڈیا اور امریکہ کے درمیان معاہدہ نہیں ہو سکا

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, نوین سنگھ کھڑکا
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
گذشتہ برس نومبر میں جب امریکی صدر براک اوباما چین گئے تھے تو انھوں نے وہاں چین کے ساتھ تاریخی ماحولیاتی معاہدہ کیا تھا۔ توقع تھی کہ ان کے انڈیا کے دورے کے بعد بھی کچھ ایسا ہی دیکھنے کو ملے گا۔
دنیا میں سب سے زیادہ کاربن پیدا کرنے والے ملک چین نے پہلی مرتبہ یہ کہا تھا کہ 2030 میں اس کا گیسوں کا اخراج اپنی انتہائی حد تک پہنچ جائے گا۔ اور دنیا کے دوسرے نمبر پر ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والے سب بڑے ملک امریکہ نے کہا تھا کہ وہ 2025 میں کاربن کے اخراج میں 26 سے 28 فیصد تک کمی لائے گا۔
اس کے بعد سب آنکھیں تیسرے بڑے کاربن پیدا کرنے والے ملک انڈیا پر مرکوز تھیں کہ وہ بھی ایسا ہی کچھ عہد کرے جس سے سال کے آخر میں عالمی ماحولیات پر ہونے والے معاہدے میں کچھ پیش رفت ہو سکے۔
لیکن بھارتی اہلکاروں نے فوراً ہی یہ کہنا شروع کر دیا کہ ان کے ملک کی ترقی کے درجے کا موازنہ چین سے نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہاں تو 30 کروڑ سے زیادہ افراد کی بجلی تک رسائی ہی نہیں اور وہ کاربن کے فی کس اخراج کے حوالے سے بہت پیچھے ہے۔
انڈیا کے ماحولیات کے وزیر پرکاش جاوادیکر نے گذشتہ دسمبر پیرو میں بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’دنیا کو انڈیا سے اس طرح کے (امریکہ، چین جیسے) اعلانات کی توقع نہیں ہے۔
’اور شمسی توانائی کے 100,000 میگا واٹ کے ایک بڑے منصوبے کو شروع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف دوسروں سے بہت زیادہ حصہ ڈال رہے ہیں۔‘
وزیرِ اعظم نریندر مودی کی قیادت میں انڈیا کی نئی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2022 تک 100 گیگا واٹس شمسی توانائی پیدا کرے گی۔
اس سے قبل انڈین میڈیا نے خبر دی تھی کہ امریکہ چاہتا ہے کہ انڈیا بھی امریکہ چین جیسے ماحولیاتی معاہدے جیسا کوئی معاہدہ کرے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن انڈین حکومت اس بارے میں کوئی ہامی بھرنا نہیں چاہتی تھی کہ اس کا کاربن کا اخراج کب انتہائی حد تک پہنچے گا۔
جب امریکہ نے دیکھا کہ انڈیا اس پر بات کرنا نہیں چاہتا تو اس نے انڈین حکومت کے شمسی توانائی کے مقاصد کی توثیق کا ہی فیصلہ کیا۔
دونوں ممالک کے سربراہان کی ملاقات کے بعد ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ’صدر اوباما انڈیا کے بلند نظر شمسی توانائی کے مقاصد کا خیر مقدم کرتے ہیں اور انڈیا کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ اس شعبے میں تجارت اور نجی سرمایہ کاری کو بڑھانے کی کوششوں کو جاری رکھے۔‘
اس مشترکہ بیان میں صاف توانائی کے پانچ ایسے پروگرام شامل ہیں جن میں امریکہ انڈیا کی مدد کر سکتا ہے۔
اگر یہ سب ہو جاتا ہے تو انڈیا اپنی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لا سکتا ہے، یا کم از کم اس اخراج کو روک سکتا ہے جو معدنی ایندھن کے پلانٹوں سے پیدا ہوتا ہے۔
لیکن اس وقت تو انڈیا ایک ایسے منصوبے پر کام کر رہا ہے جس سے کاربن کی پیداوار اور زیادہ ہو جائے گی۔
نئی حکومت چاہتی ہے کہ اگلے پانچ برسوں میں کوئلے کی پیداوار میں ایک ارب ٹن کا اضافہ کرے۔ یاد رہے کہ کوئلہ سب سے برا معدنی ایندھن ہے۔
توانائی کے وزیر پیوش گوئل کہتے ہیں کہ کوئلے کی ملکی پیداوار میں اضافہ انڈیا کی توانائی کے حوالے سے طویل مدتی سکیورٹی کی طرف ایک بڑا قدم ہو گا۔
’انڈیا کے پاس دنیا میں تیسرے نمبر پر کوئلے کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے، اور پھر بھی ہم اربوں ڈالر کا تھرمل کوئلہ درآمد کرتے ہیں جس سے ہمارے ذرِمبادلہ کے ذخائر پر اثر پڑتا ہے۔‘







