یورپی رہنما کاربن کے اخراج میں کمی پر متفق

یورپی یونین نے 1990 میں کاربن کے اخراج کے تناسب سے 2020 تک اس میں مزید 20 فیصد کی کمی کا ہدف پہلے ہی مقرر کیا ہوا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنیورپی یونین نے 1990 میں کاربن کے اخراج کے تناسب سے 2020 تک اس میں مزید 20 فیصد کی کمی کا ہدف پہلے ہی مقرر کیا ہوا ہے

یورپی یونین کے رہنما گرین ہاؤس گیسوں میں کمی کے ایک اہم معاہدے پر متفق ہوگئے ہیں جس کے تحت ان گیسوں کے اخراج میں سنہ 2030 تک 40 فیصد کمی لائی جائے گی۔

یہ معاہدہ برسلز میں منعقدہ اجلاس میں طے پایا ہے جس میں ہونے والی بحث کے دوران یونین کے کچھ رکن ممالک نے اپنے مفادات کے تحفظ کے مطالبات بھی کیے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کی وجہ سے یورپی یونین کو عالمی ماحولیاتی پالیسی میں رہبر کا کردار مل سکتا ہے۔

یورپی ممالک کی تنظیم نے توانائی کے مجموعی استعمال میں دوبارہ قابلِ استعمال توانائی کا حصہ بڑھا کر 27 فیصد کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

اجلاس کے دوران کاربن کے اخراج کے معاملے پر یورپی ممالک میں گہرے اختلافات بھی سامنے آئے۔

ایندھن کے لیے کوئلے پر بڑی حد تک انحصار کرنے والے ملک پولینڈ نے خدشہ ظاہر کیا کہ کاربن کے استعمال میں کمی اس کی معیشت کی ترقی پر اثرانداز ہوگی۔

پولینڈ کے علاوہ وسطی اور مشرقی یورپ کے کئی ممالک نے بھی اس خدشے کا اظہار کیا۔

یورپی کونسل کے صدر ہرمن وین رومپوئی نے اجلاس کے بعد کہا کہ یونین کے غریب ارکان کو مقررہ اہداف کے حصول کے لیے مدد دی جائے گی جس میں مالی امداد بھی شامل ہے۔

انھوں نے اس معاہدے کو ’دنیا کا سب سے خواہشمندانہ‘ معاہدہ قرار دیا ہے۔

جمعے کی صبح اپنی ایک ٹویٹ میں ہرمن رومپوئی نے کہا کہ ’معاہدے کے تحت 2030 تک کاربن کے اخراج میں کم از کم 40 فیصد کمی لائی جائے گی۔ یہ ماحولیات اور توانائی کے معاملے پر پر دنیا کی سب سے زیادہ خواہشمندانہ، کفایتی اور منصفانہ متقفہ پالیسی ہے۔‘

ماحولیاتی امور پر یورپی یونین کی کمشنر کونی ہیڈگارڈ نے کہا ہے کہ انھیں ’فخر ہے کہ یورپی رہنما ماحولیاتی چیلینج سے نمٹنے کے لیے مل کر کوششیں کرنے پر متفق ہوئے ہیں۔‘

خیال رہے کہ یورپی یونین نے 1990 میں کاربن کے اخراج کے تناسب سے 2020 تک اس میں مزید 20 فیصد کی کمی کا ہدف پہلے ہی مقرر کیا ہوا ہے اور وہ اس ہدف کے حصول کی جانب کامیابی سے گامزن ہے۔