ماحولیاتی تبدیلی پر عالمی کانفرنس، معاہدے کے حق میں ریلیاں

،تصویر کا ذریعہEPA
فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے کانفرنس کے موقعے پر سکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور اس کانفرنس میں 150 ممالک کے سربراہان شرکت کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی اس کانفرنس کو COP21 کا نام دیا گیا ہے، جس میں کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لیے کسی متفقہ معاہدے پر پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
کانفرنس کے موقعے پر دنیا بھر میں ہزاروں افراد ریلیاں اور احتجاج کر رہے ہیں کہ عالمی حدت میں اضافے کو روکنے کے لیے کسی معاہدے پر اتفاقِ رائے قائم کیا جائے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ پیرس میں ہونے والے حالیہ حملوں کے بعد کانفرنس میں معاہدے طے پا جانے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔
11 دسمبر تک جاری رہنے والی کانفرنس میں تقریبا 40 ہزار افراد شرکت کریں گے۔
کانفرنس کے آغاز پر 147 ممالک کے سبراہانِ مملکت شرکت کر رہیں جبکہ اس سے قبل سنہ 2009 میں ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں ہونے والی کانفرنس میں مدوبین متفقہ معاہدے کے بہت قریب پہنچ گئے تھے۔
پیرس میں ہونے والی اس کانفرنس میں امریکی صدر براک اوباما اور چین کے صدر شی جن پنگ بھی پہنچ رہے ہیں۔ پیرس میں ہونے والے حالیہ حملوں کے بعد فرانس کی حکومت نے کہا تھا کہ پیرس کی عوام سے یکجہتی کے لیے زیادہ سے زیادہ افراد کانفرنس میں شرکت کریں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مالدیپ سے تعلق رکھنے والے مندوب امجد عبداللہ کا کہنا ہے کہ ’مجھے لگ رہا ہے کہ کسی ڈیل تک پہنچنے کے امکانات روشن ہیں کیونکہ مختلف لوگوں سے بات کرنے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ وہ آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
برطانیہ کے سابق مشیر برائے ماحولیاتی تبدیلی ٹوم برکی کا کہنا ہے کہ بعض رہنما یہ کہیں گے کہ عالمی حدت میں اضافے پر قابو پانے سے ہم دہشت گردی کی وجوہات کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔
’گو کہ خاطر خواہ اختلافات ہیں لیکن اس کانفرنس کے موقعے پر مجموعی رجحان بہت مثبت ہے۔‘ کسی بھی معاہدے تک پہنچنے میں ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ معاہدے میں کیا ہونا چاہیے۔
مثال کے طور پر امریکہ کسی بھی ایسے معاہدے پر رضا مند ہو گا، جس میں کوئی حتمی مدت ہو، کیونکہ سینیٹ میں ریپبلکنز کی اکثریت ہے اور ڈیموکریٹس کے لیے معاہدے کی منظوری مشکل ہو جائے گی۔
ماحولیاتی تبدیلی کی کانفرنس میں کسی معاہدے پر پہنچنے کے حق میں دنیا بھر میں لاکھوں افراد ریلیوں میں حصہ لیں گے۔
اقوام متحدہ کی اس کانفرنس کے موقعے پر دنیا کے 180 ممالک میں دو سو سے زیادہ احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالیں جائیں گی۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ عالمی حدت میں دو ڈگری تک اضافے کی سطح پر پابندی لگائی جائے۔







