خشک چراگاہ کی تصاویر

انسانی اقدامات کے منفی اثرات میں گرین ہاؤس گیسیں بھی شامل ہیں جو ماحولیاتی تبدیلی کو متاثر کرتی ہیں۔

11 سالہ ایان، صومالی لینڈ
،تصویر کا کیپشنانسانی کارروائی کے منفی اثرات میں گرین ہاؤس گیسیں بھی شامل ہیں جو ماحولیاتی تبدیلی کو متاثر کرتی ہیں۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک نئی عالمی حکمتِ عملی پر اتفاقِ رائے کے لیے فرانس کے دارالحکومت پیرس میں عالمی کانفرنس ہو رہی ہے
26 سالہ ساحل، صومالی لینڈ
،تصویر کا کیپشنغیر سرکاری تنظیم ’سیو دا چلڈرن‘ کے ساتھ کام کر کے فیلسیٹی نے اُن افراد کی تصاویر کھینچی ہیں جنھیں خشک سالی نے متاثر کیا ہے، جیسا کہ تین بچوں کی والدہ ساحل
70 سالہ محمد، صومالی لینڈ
،تصویر کا کیپشنصومالی لینڈ خلیج عدن کے ساحل پر ایک ریگستانی خطہ ہے جس نے سنہ 1991 میں صومالیہ سے آزادی کا اعلان کیا تھا۔ ستر سالہ محمد جیسے ملک کے رہائشیوں نے متعدد بار خشک سالی کا سامنا کیا ہے
اناب، مارودی جیز
،تصویر کا کیپشنصومالی لینڈ کے ’مارودی جیز ‘ کے خطے سے تعلق رکھنے والی اناب کہتی ہیں کہ ’یہاں 10 سال سے قحط ہے اور حالات دن بہ دن ابتر ہوتے جا رہے ہیں
50 سالہ شکری، صومالی لینڈ
،تصویر کا کیپشنشکری کے تمام مال مویشی خشک سالی کی نظر ہو گئے جس کے بعد انھیں پانی کی بہتر فراہمی کے لیے ایک عارضی بستی میں منتقل ہونا پڑا
5 سالہ عاشہ، مارودی جیز
،تصویر کا کیپشنعاشہ بودالی کے علاقے میں اپنے والدین اور چار بہن بھائیوں کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔ خشک سالی کی وجہ سے انھوں نے اپنے تمام مال مویشی کھو دیے۔ ان کو اپنا نیا ٹھکانا بنانے کے لیے تقریباً بیس مختلف دیہات کے چکر لگانا پڑے
80 سالہ حسن، صومالی لینڈ
،تصویر کا کیپشن80 سالہ حسن کہتے ہیں کہ ’میں اس گاؤں کا سب سے عمر رسیدہ شخص ہوں۔ میری دولت ختم ہو چکی ہے۔ ایک وقت تھا جب میرے پاس بہت زیادہ مال مویشی ہوا کرتے تھے لیکن اب کچھ نہیں ہے۔ ہر برس پہلے سے بدتر خشک سالی لاتا ہے‘
18 سالہ رودا اور اُن کی ایک سال کی بیٹی، صومالی لینڈ
،تصویر کا کیپشننوجوان ماں رودا اپنی پرانی زندگی کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں: ’پہلے ہمارے پاس بہت مال مویشی اور 10 اونٹ ہوا کرتے تھے لیکن اب میرے گاؤں میں کچھ نہیں بچا ہے۔ اِس خیمے میں رہنا بہت مشکل ہے، خاص طور پر پانی اور طبی سہولت کے بغیر۔ میرے پاس یہاں رہنے کے علاوہ اور کوئی چارہ بھی نہیں ہے۔‘