نیو ہورائزن نے پلوٹو کی نئی تصاویر بھیجنا شروع کر دیں

پلوٹو

،تصویر کا ذریعہOther

،تصویر کا کیپشننیو ہورائزن کی طرف سے بھیجی گئی تصاویر میں پلوٹو کی سطح پر ٹیلے دیکھے جا سکتے ہیں

امریکی خلائی ادارے ناسا کے خلائی جہاز نیو ہورائزن سے لی جانے والی بونے سیارے پلوٹو کی نئی تصاویر جاری کی گئی ہیں۔

خلائی جہاز نے گذشتہ ہفتے تصاویر بھیجنا شروع کی تھیں جس سے سائنسدانوں کو اس دور دراز سیارے کا تجزیہ کرنے کا موقع ملے گا۔

تازہ ترین تصاویر میں ٹیلے، ہموار وادیاں اور برفیلے پہاڑی سلسلے دیکھے جا سکتے ہیں۔

14 جولائی کے فوراً بعد سائنسدان بہت کم ڈیٹا کا تجزیہ کر سکے تھے۔ اب تصاویر تواتر سے آ رہی ہیں۔

اس کا مطلب ہے کہ ٹیم مستقبل میں باقاعدگی کے ساتھ تصاویر اور جو ان کے مطابق ان کی تفصیل ہو گی، وہ بھیجتے رہیں گے۔

تحقیقات کار ایلن سٹیرن کہتے ہیں کہ یہ بہت محسور کن ہو گی۔

ساؤتھ ویسٹ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے سائنسدان نے ایک بیان میں کہا کہ ’پلوٹو ہمیں وہاں کی زمین کی اشکال میں تنوع اور اس کے عمل کی پیچیدگی دکھا رہا ہے جس کا نظامِ شمسی میں کوئی ثانی نہیں ہے۔‘

پلوٹو

،تصویر کا ذریعہOther

،تصویر کا کیپشنپلوٹو پر بنی برفیلی چوٹیوں کی بلندی ایک سے ڈیڑھ کلومیٹر ہے

انھوں نے کہا کہ اگر مشن سے پہلے کوئی آرٹسٹ پلوٹو کی تصویر بناتا تو ’میں شاید کہتا کہ یہ بہترین ہے لیکن اصل میں یہ ایسی ہی ہے۔‘

پلوٹو پر بنی برفیلی چوٹیوں کی بلندی ایک سے ڈیڑھ کلومیٹر ہے۔

یہ چوٹیاں برفیلی اور ہموار سطح کے درمیان واقع ہیں جسے سپٹنک پلنم کا نام دیا گیا ہے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ان کی عمر ایک کروڑ سال سے کم ہے جبکہ تصاویر میں دکھائی دینے والے سیاہ حصے اربوں سال پرانے لگتے ہیں۔

دو ماہ پہلے جب نیو ہورائزن 2,300 کلومیٹر چوڑے سیارے کے قریب سے گزرا تھا تو اس نے مشاہدات کا ایک ذخیرہ بھیجا تھا، جس میں سے زیادہ تر معلومات ابھی بھی جہاز میں جمع ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ہمیں مزہ چکھنے کے لیے شروع ہی میں کمپریسڈ تصاویر مل گئی تھیں۔ ’لیکن اس کے بعد جب مشن سائنسی معلومات اکٹھی کرتا رہا اور اس کی توجہ تصاویر کے بغیر ڈیٹا پر رہی تو ایک وقفہ سا پڑ گیا۔‘

اب مشن نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جس میں مکمل سٹور کیے گئے ڈیٹا کو ڈاؤن لنک کرنا ہے لیکن اب یہ پہلے والی ہائی کمریشن کے بغیر ہو گا۔

تاہم نیو ہورائزن کے حالیہ مقام سے وسیع فاصلے کا مطلب ہے کہ ایسا 2016 تک ممکن ہو سکے گا کہ ڈیٹا زمین تک پہنچے۔