خلائی جہاز کا سفر ’مشن کے مطابق‘، پلوٹو سے دوری کا سفر شروع

امریکی خلائی ادارے ناسا کے خلائی جہاز نیو ہورائزنز کی جانب سے سگنل موصول ہوا ہے کہ اس کا نظام شمسی کے آخری سیارے پلوٹو کے قریب سے سفر مشن کے عین مطابق ہوا ہے۔
خلائی جہاز سے ملنے والے پہلے پیغام سے معلوم چلا ہے کہ پلوٹو کے قریب سے 14 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے نیو ہورائزنز کا سفر مشن کے مطابق ہوا ہے۔
نیو ہورائزنز کی جانب سے یہ پیغام میڈرڈ میں امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے مواصلاتی اینٹینا کو ملا۔
یہ پیغام 4.7 بلین کلومیٹر دور سے زمین تک پہنچنے میں چار گھنٹے اور 25 منٹ لگے۔
اس مشن کے ہیڈکوارٹر میری لینڈ کے شہر لوریل میں سائنسدانوں اور انجینیئرز کے چہروں پر پریشانی عیاں تھی جب تک خلائی جہاز سے کوئی پیغام موصول نہیں ہوا۔
ظاہر ہے جب ایک بج کر 53 منٹ بی ایس ٹی پر پیغام ملا تو مشن ہیڈ کوارٹر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
مشن آپریشن کی مینیجر ایلس بومین نے کہا ’خلائی جہاز بالکل ٹھیک ہے، ہم نے پلوٹو نظام کی معلومات ریکارڈ کی ہیں اور اب خلائی جہاز پلوٹو نظام سے باہر کی جانب جا رہا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جو معلومات ملی ہیں وہ صرف انجینیئرنگ کے حوالے سے ہیں اور اس کا مقصد مشن کنٹرول کو مطلع کرنا ہے کہ پلوٹو کے قریب سے سفر مشن کے مطابق ہوا ہے یا نہیں۔
نیو ہورائزنز کی جانب سے پلوٹو کی پہلی ہائی ریزولیوشن تصاویر آج کنٹرول سٹیشن کو موصول ہوں گی۔
یاد رہے کہ نیو ہورائزنز ساڑھے نو برس میں پانچ ارب کلومیٹر کا سفر طے کر کے پلوٹو تک پہنچا ہے۔
نیو ہورائزنز منگل 14 جولائی کو گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق صبح 11 بج کر 50 منٹ پر اس سیارے کے قریب ترین پہنچا اور اس کا پلوٹو سے فاصلہ صرف 12500 کلومیٹر تھا۔
اس سے قبل خلائی ادارے نے اس بونے سیارے کے قریب سےگزرنے کے دوران کھینچی تفصیلی تصاویر نشر کیں۔
پلوٹو سے فاصلہ صرف 12500 کلومیٹر کے فاصلے سے گزرتے ہوئے نیو ہورائزنز اس بونے سیارے کی تفصیلی تصاویر کھینچیں اور اس کے بارے میں دیگر سائنسی معلومات اکٹھی کیں۔
نیو ہورائزنز کا 2370 کلومیٹر چوڑے پلوٹو کے قریب سے گزرنا خلا کو جاننے کی تاریخ کا انتہائی اہم لمحہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
اس کی کامیابی کے نتیجے میں عطارد سے لے کر پلوٹو تک نظامِ شمسی کے تمام نو کلاسیکی سیاروں تک کم از کم ایک خلائی سفر کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔







