پلوٹو کی 80 لاکھ کلومیٹر دور سے تصویر کشی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
امریکہ کی خلائی ایجنسی ناسا کے مشن نیو ہورائزنز نے منگل کو بونے سیارے پلوٹو کی تازہ تصویر کھینچی ہے اور یہ تصویر اس وقت لی گئی جب وہ پلوٹو سے محض 80 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔
جمعرات کو نیو ہورائزن کا فاصلہ پلوٹو سے 60 لاکھ کلومیٹر ہو گیا ہے۔ یہ مشن اگلے ہفتے پلوٹو کے قریب سے گزرے گا۔
ناسا کنٹرول کو ملنے والی نئی تصویر پہلی تصویر ہے جو کمپیوٹر کی خرابی دور ہونے کے بعد ملی ہے۔ اس خرابی کے باعث نیو ہورائزنز کا رابطہ کچھ دیر کے لیے زمین سے منقطع ہو گیا تھا۔
تصویر میں دکھائی دینے والی پلوٹو کی سطح کو 14 جولائی کو مزید تفصیل سے دیکھا جا سکے گا۔
اس تصویر میں پلوٹو کے خط استوا کے قریب ایک بڑا حصہ تاریک دیکھا جا سکتا ہے جس کو سائنسدانوں نے ’وہیل‘ کا نام دیا ہے۔ اس کے ساتھ دل کی شکل کا روشن حصہ ہے جو تقریباً 2000 کلومیٹر چوڑا ہے۔
’نیو ہورائزنز‘ پلوٹو کے سب سے قریب 14 جولائی کو گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق صبح 11 بج کر 50 منٹ پر پہنچے گا اور اس وقت اس کی دوری پلوٹو کی سطح سے محض 12،500 کلومیٹر ہوگی۔
نیو ہورائزنز کا ہائی ریزولیوشن کیمرہ ’لوری‘ اس فیصلے سے سیارے کی تصاویر کھینچ سکے گا جس کی ریزولیوشن100 میٹر فی پکسل سے بھی اچھی ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ڈاکٹر سپینسر نے بی بی سی ورلڈ سروس کے نیوز آور کو بتایا: ’اس وقت وہ ہمیں یہ بتا رہے ہیں کہ پلوٹو بہت عجیب و غریب ہے۔ اس میں کئی بہت تاریک حصے ہیں، کچھ بہت روشن حصے اور ہمیں نہیں معلوم کہ یہ حصے کیا ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈاکٹر سپینسر اور ان کے ساتھیوں کا خیال ہے کہ روشن حصے وہ ہیں جہاں کاربن مونو اوکسائیڈ جمی ہوئی ہے اور تاریک حصے وہ ہیں جہاں شاید ہائیڈرو کاربن مرکبات موجود ہیں۔
لیکن یہ سب محض اندازے ہی ہیں۔
ڈاکٹر سپینسر کا کہنا ہے کہ ’پلوٹو کے بہت قریب پہنچنے پر منگل کو جو تصویر ملی ہے اس سے 500 گنا بہتر تصویر ہمیں ملے گی۔‘
نیو ہورائزنز جب پلوٹو کے قریب پہنچے گا تو اس وقت خلائی جہاز کی رفتار 14 کلومیٹر فی سیکنڈ ہو گی۔ اس کی وجہ سے یہ جہاز پلوٹو کے گرد مدار میں نہیں داخل ہو سکے گا بلکہ اس بونے سیارے کے قریب سے گزر کر آگے کا سفر جاری رکھے گا۔
مدار میں داخل ہونے کے بجائے نیو ہورائزنز پہلے سے طے شدہ مشاہدہ کرے گا اور 2300 کلومیٹر قطر والے بونے سیارے اور اس کے پانچ چاندوں کے قریب سے گزرتے ہوئے یہ جتنی زیادہ تصاویر ممکن ہیں، وہ لے گا۔
پلوٹو کے قریب سے نیو ہورائزنز کا سفر امریکی خلائی جہاز ’میرینر 4‘ کی جانب سے مریخ کے قریب سے گزرنے 50 سال مکمل ہونے پر کیا جا رہا ہے۔
میرینر 4 کے مقابلے میں نیو ہورائزنز 5000 گنا زیادہ معلومات اکٹھی کرے گا۔
نیو ہورائزنز کی مشکل یہ ہے کہ وہ یہ ساری معلومات زمین تک کیسے پہنچائے۔ پلوٹو اور زمین کا فاصلہ ساڑھے چار ارب کلومیٹر ہے اور اس کی وجہ سے معلومات بھیجنے کی رفتار بہت سست ہو جائے گی۔ اور یہ تمام معلومات بھیجنے میں 16 ماہ لگ سکتے ہیں۔







