’پلوٹو کا حجم ماضی کے اندازوں سے زیادہ ہے‘

سنہ 2006 میں پلوٹو سے مکمل سیارے کا درجہ واپس لے لیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسنہ 2006 میں پلوٹو سے مکمل سیارے کا درجہ واپس لے لیا گیا تھا

خلائی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ’بونے سیارے‘ کے نام سے معروف پلوٹو کا حجم ماضی کے اندازوں کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ ہے۔

پلوٹو کے حجم کی پیمائش خلائی جہاز ہ نیو ہورائزنز نے کی ہے جس کے مطابق اس کا قطر 2370 کلومیٹر ہے۔

بونے سیارے کے حجم کے بارے نئی معلومات سے تصدیق ہو گئی ہے کہ پلوٹو ’کیپر بیلٹ‘ نامی نظامِ شمسی کے باہری علاقے میں پائی جانے والی وہ سب سے بڑی چیز ہے جو اب تک دریافت کی گئی ہے۔

ناسا کا خلائی جہاز منگل کو برطانوی وقت کے مطابق دن 11 بج کر 50 منٹ پر پلوٹو سے صرف ساڑھے 12 ہزار کلومیٹر کے فاصلے سےگزرے گا اور اس دوران وہ اس سیارے کی تفصیلی تصاویر اور اس کے بارے میں دیگر سائنسی معلومات اکٹھی کرے گا۔

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس سائنسی ڈیٹا سے سیارے کے حجم کے بارے میں بالکل صحیح معلومات حاصل ہو سکیں گی۔

پلوٹو کے حجم کے بارے میں نئی معلومات سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس سیارے کی کثافت اتنی نہیں جتنی کہ ماضی میں سمجھی جاتی رہی ہے اور اس پر برف کا تناسب زیادہ ہے۔

تاہم سب سے اہم چیز پلوٹو اور ایراس کے درمیان بڑے سیارے کی بحث کا خاتمہ ہو سکتی ہے۔

خلائی جہاز منگل کو برطانوی وقت کے مطابق دن 11 بج کر 50 منٹ پر پلوٹو سے صرف ساڑھے 12 ہزار کلومیٹر کے فاصلے سےگزرے گا

،تصویر کا ذریعہn

،تصویر کا کیپشنخلائی جہاز منگل کو برطانوی وقت کے مطابق دن 11 بج کر 50 منٹ پر پلوٹو سے صرف ساڑھے 12 ہزار کلومیٹر کے فاصلے سےگزرے گا

2005 میں ایراس کی دریافت کے بعد ہی سنہ 2006 میں پلوٹو سے مکمل ’سیارے‘ کا درجہ واپس لے لیا گیا تھا۔ تاہم اب اس نئی دریافت سے ثابت ہوا ہے کہ پلوٹو کا قطر ایراس سے 30 کلومیٹر زیادہ ہے۔

منگل کو پلوٹو کے قریب سے انتہائی تیزی سے گزرتے ہوئے نیوہورائزنز کے پاس سائنسی ڈیٹا جمع کرنے کے لیے مختصر وقت ہو گا اور اس وقت اس کا زمین سے ریڈیائی رابطہ بھی نہیں ہو گا۔

جانز ہوپکنز یونیورسٹی میں نیو ہورائزنز کی ٹیم کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وہ اس دوران صرف انتظار ہی کر سکتے ہیں کہ نیو ہورائزنز کامیابی سے اپنے سفر کا یہ اہم ترین مرحلہ مکمل ہونے کی نوید دے جو کہ پیغام کی صورت میں برطانوی وقت کے مطابق منگل کی شب ایک بج پر 53 منٹ پر وصول ہونا چاہیے۔

پلوٹو اور زمین کے درمیان پانچ ارب کلومیٹر کا فاصلہ ہے اور وہاں سے زمین پر بھیجا جانے والا پیغام گھنٹوں کی تاخیر سے پہنچتا ہے۔

نئی تصاریر میں پلوٹو کے سب سے بڑے چاند کیرن کی تصاویر بھی شامل ہیں

،تصویر کا ذریعہImage Credit NASAJHUAPLSWRI

،تصویر کا کیپشننئی تصاریر میں پلوٹو کے سب سے بڑے چاند کیرن کی تصاویر بھی شامل ہیں

نیو ہورائیزنز پروجیکٹ کے سربراہ گلین فاؤنٹن نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اپنی ٹیم سے کہا ہے کہ وہ مستعد رہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ اس ماحول کو محسوس بھی کریں کہ وہ ایک تاریخی موقعے کا حصہ بننے والے ہیں۔

’میں نے انھیں بتایا کہ زندگی میں ایسے شاذونادر مواقع آپ کو کتنی بار ملتے ہیں جب آپ خود سے بہت بڑے کام کا حصہ ہوں۔‘

نیو ہورائزنز جیسے جیسے پلوٹو کے قریب پہنچ رہا ہے، ویسے ویسے اس کی بھیجی گئی تصاویر عوام کے لیے پیش کی جا رہی ہیں اور ہر نئی تصویر میں سیارے کو مزید واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

نئی تصاریر میں پلوٹو کے سب سے بڑے چاند کیرن کی تصاویر بھی شامل ہیں۔ سائنسدان پلوٹو اور کیرن کے درمیان ظاہری فرق کو حیرت انگیز قرار دے رہے ہیں۔ پلوٹو کا رنگ سرمئی جب کہ کیرن کا رنگ خاصا سرخ ہے۔

خیال یہی ہے کہ پلوٹو اور اس کے چاند کی موجودہ حالت ماضی قدیم کے ایک ٹکراؤ سے ہوئی تھی اسی لیے ان میں کچھ مشترک خاصیتیں بھی ہونی چاہییں لیکن نیو ہورائزنز کے مرکزی محقق ایلن سٹرن کا کہنا ہے کہ یہ دونوں بالکل مختلف ہیں۔