کیپر بیلٹ کے بادشاہ پلوٹو سے ملیے

،تصویر کا ذریعہREUTERS
بعض اوقات علمِ فلکیات میں چیزوں کے حجم کو سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ہمارا نظامِ شمسی انتہائی وسیع ہے جس کے ایک کونے میں ہم بھی رہتے ہیں۔
سنہ 1930 میں نئے دریافت ہونے والے سیارے کے لیے ’پلوٹو‘ نام تجویز کرنے والی 11 سالہ وینیٹا برنی کو یاد ہے کہ کس طرح وہ آکسفورڈ یونیورسٹی کے میدان میں کھیل کے دوران سیاروں کے حجم کو پیش کرتی تھیں۔
وہ اور ان کے سکول کے دوست نظامِ شمسی کو ظاہر کرنے کے لیے گیٹ پر سورج کے طور پر دو فٹ چوڑی تھالی لٹکاتے تھے اور عطارد کی جگہ ایک بیج ، زمین اور سیارہ زہرہ کے لیے وہ مٹروں کا انتخاب کرتے تھے۔
نپچیون کے لیے وہ مٹی کا ڈھیلا استعمال کرتے تھے جسے گیٹ سے تقریباً ایک میل کے فاصلے پر رکھا جاتا تھا۔
بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اس بات کو یاد کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اور پھر ہمیں بتایا جاتا تھا کہ قریب ترین ستارہ چین میں ہو گا۔‘
سنہ 2009 میں اپنی وفات سے قبل ان کو ناسا کی جانب سے پلوٹو کی طرف بھیجے گئے خلائی جہاز ’نیو ہورائزنز‘ کی افتتاحی پرواز بھی دیکھنے کا موقع ملا۔
اس خلائی جہاز میں ایک آلہ بھی ان سے منسوب کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نیو ہورائزنز زمین سے بھیجا گیا تیز ترین خلائی جہاز ہے۔
منگل کو یہ خلائی جہاز نو سال تک انتہائی تیز رفتاری سے سفر کرنے کے بعد تقریباً چار ارب کلومیٹر دور اس چھوٹی سے سیارے تک پہنچے گا۔
اس عرصے میں کچھ چیزیں بدل گئی ہیں۔
پہلے تو یقینی طور پر سب کو معلوم ہو گیا ہے کہ پلوٹو کو ایک مکمل سیارے کے بجائے اب ایک بونے سیارے کے طور پر جانا جاتا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ نظامِ شمسی کے اندر اور ستاروں کے اردگرد ہر حجم کے سیارے موجود ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
اس بات پر اب بھی بحث جاری ہے کہ سکول میں بچوں کو جس سیاروں کے بارے میں سکھایا جاتا ہے اس میں پلوٹو کو بھی شامل کرنا چاہیے۔
اس بحث کی وجہ سے ہم اصل اور دلچسپ امر کو نظر انداز کر رہے ہیں۔
ایک لمحے کے لیے سوچیے کہ پہلے جیسے خیال کیا جاتا تھا کہ نظامِ شمسی میں صرف نو سیارے ہیں۔ اگر ایسا ہی ہوتا تو منگل کو نظامِ شمسی کا نقشہ بنانے کا عمل مکمل ہو جاتا۔
اب ہم یہ سوچنا پسند کرتے ہیں کہ پلوٹو کے مشاہدے کا عمل محض ایک آغاز ہے، ’تھرڈ زون‘ کے بارے میں تحقیق کا آغاز۔
اگر پہلا اور دوسرا زون زمین جیسے پتھریلے اور زحل جیسے سیاروں کا احاطہ کرتا ہے، تو تیسرا زون پلوٹو جیسے چھوٹے حجم والے سیاروں کا احاطہ کرتا ہے، جو سورج سے اربوں میل دور مدار میں گھوم رہے ہیں ۔ یہ ایک لشکر کی طرح ہیں۔
اس تیسرے زون کو کیپر بیلٹ کہا جاتا ہے، اور اس میں غالباً لاکھوں سیارے ہیں اور 23 سو کلومیٹر چوڑے پلوٹو کو فی الحال کیپر کا بادشاہ تصور کیا جاتا ہے۔ کیو نکہ جہاں تک ہمیں علم ہے پلوٹو ان تمام سیاروں میں سب سے بڑا ہے۔
نیو ہورائزنز کی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ایلن سٹرن نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پلوٹو ان تیسرے درجے کے سیاروں میں سے سب سے بڑا ہے۔ یہ ایک خوبصورت دریافت تھی جب ہمیں پتہ چلا کہ نظامِ شمسی میں اضافی درجے کے سیارے بھی ہیں اور یہ تعجب کی بات نہیں ہے کہ اس درجے میں سیاروں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ یہ کتنی دلچسپ بات ہے کہ 90 کی دہائی میں نظامِ شمسی کے بارے میں ہماری سوچ بلکل مختلف تھی۔‘
ہوسکتا ہے کہ یہ چھوٹے سیارے نظامِ شمسی علاوہ پوری کائنات میں ہر طرف پائے جاتے ہوں۔
اور ہاں یاد رکھیے گا کہ وہ برف اور پتھر کے غیردلچسپ گولے نہیں ہیں۔
نیو ہورائزنز اس تیسرے زون کے بارے میں تحقیق کرنے والا پہلا مشن ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پلوٹو کے پاس سے گزرنے کے بعد اس کا رخ کیپر کے دوسرے حصے کی طرف موڑ دیا جائے گا جہاں یہ اگلے چار سالوں میں پہنچے گا۔
یقیناً اس کے بعد اور مشن بھی بھیجے جائیں گے لیکن ہمارا موجودہ مسئلہ یہ جاننا ہے کہ ان کو کس سمت میں بھیجا جائے۔
موجودہ دوربینوں کو تیسرے زون کو دیکھنے میں دقت پیش آتی ہے جس کی وجہ سے اہم سیاروں کو چننے میں مشکلات درپیش ہیں جن کے بارے میں مزید تحقیق ہونی چاہیے۔
لیکن اب یہ سب کچھ بدلنے والا ہے۔ جو نئی دوربینیں بنائی جارہی ہیں ان کی مدد سے کیپر بیلٹ پر تحقیق کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا۔
اب تک کی تحقیق سے اندازہ ہوتا ہے کہ چار ارب سال پہلے نظامِ شمسی کے ابتدائی دنوں میں پلوٹو جیسے ہزار کے قریب سیارے ہوں گے۔ لیکن بعد میں ہونے والے واقعات جیسے سیاروں کا ٹکراؤ وغیرہ میں یہ سیارے یا تو تباہ ہو گئے ہوں گے یا پھر دوسرے سیاروں سے ٹکرانے کی وجہ سے بکھر گئے ہوں گے۔
ان میں سے کچھ اب بھی ہوں گے لیکن یہ کیپر بیلٹ سے بھی دور ’اورٹ کلاؤڈ‘ میں ہوسکتے ہیں۔
پروفیسر سٹرن کا کہنا ہے کہ ’اگر یہ ماڈل درست ہے تو ہمیں بہت سے چھوٹے سیاروں کے ملنے کی امید رکھنی چاہیے، اور زمین اور مریخ کے حجم کے برابر کچھ بڑے سیارے بھی مل سکتے ہیں۔‘
کچھ روز قبل مجھے معروف ماہِر فلکيات جوسلنبل برونیل سے بات کرنے کا اتفاق ہوا وہ نیو ہورائزنز مشن کے بارے میں بہت پرجوش تھیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’پلوٹو اور کیپر کے دورے سے نیو ہورائزنز اس زون میں جا رہا ہے جہاں کی پہلے چھان بین نہیں کی گئی ہے اور میرے خیال میں اس کا وہاں جانا زبردست بات ہے۔‘
’اتنی دور خلائی جہاز بھیجنے سے امید ہے کہ ہماری معلومات اور فہم میں اضافہ ہو گا۔‘







