پلوٹو کے برفیلے میدانوں کی نئی تصاویر جاری کر دی گئیں

،تصویر کا ذریعہNasa.gov
امریکی خلائی ادارے ناسا نے خلائی جہاز نیو ہورائزنز نے پلوٹو کے حیران کن برفیلے میدانوں کی مزید تصاویر جاری کی ہیں۔
پلوٹو کی وہ سطح جسے سویت سپٹنک سٹلائٹ کے نام سے منصوب کیا گیا ہے، اس سطح پر کثیرالزاویہ اشکال دیکھی جاسکتی ہیں۔
20 سے تین کلومیٹر چوڑی ان شکلوں کے کنارے سیاہ اور ٹیلوں پر مشتمل ہیں۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ سطح پر یہ ابھار نیچے سے آنے والی تپش کا ثبوت ہوسکتے ہیں۔
تاہم ایسا ٹھنڈک اور مادے کے سکڑنے کے نتجہ ہوسکتا ہے۔
سائنسدانوں کی ٹیم کا کہنا ہے کہ جب اتک انھیں مزید معلومات حاصل نہیں ہو جاتیں وہ کسی نتیجے پر پہنچنے کی جلدبازی نہیں کر رہے۔

،تصویر کا ذریعہnasa.gov
نیوہوریزونز کے علم ارضیات، ارضی طبیعات اور تصویر کشی کی ٹیم کے سربراہ جیف مور کا کہنا ہے کہ ’جب میں نے پہلی بار سپٹنک کے میدان کی تصویر دیکھی تو میں نے فیصلہ کر لیا تھا میں اسے ’آسانی سے بیان نہ کرنے والا میدان‘ کہوں گا۔‘
واشنگٹن ڈی سی میں ناسا کے ہیڈکوارٹر میں میڈیا بریفنگ کے دوران مشن ٹیم نے میڈیا بریفنگ کے دوران پلوٹو کے ایک چاند نکس کی تصویر بھی دکھائی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس چاند کی واضح تصویر نہیں حاصل ہوسکی کیونکہ اس کا قطر صرف 40 کلومیٹر ہے اور اب محقق اس کی شکل واضح کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو آج سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔
سائنسدان ایلن سٹرن کا کہنا ہے کہ ’ہمیں توقعات رکھنا چاہییں، آج سے تین ماہ پہلے تک، ہمارے پاس پلوٹو کی اتنی اچھی تصاویر بھی نہیں تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہnasa.gov
مزید حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق شاید پلوٹو اپنا کرہ ارض کا 500 ٹن فی گھنٹہ کے حساب سے کھو رہا ہے۔ سورج کی طرف سے آنے والے چارجڈ ذرات اسے اس سے جدا کر رہے ہیں۔
پلوٹو کا حجم چھوٹا ہونے کے باعث اس کی کشش ثقل زمین یا مریخ کے انتہائی کم ہے۔
مثال کے طور پر مریخ پر یہ شرح صرف ایک ٹن فی گھنٹہ ہے۔
یونیورسٹی آف کولراڈو کے معاون محقق فران باگینل کہتے ہیں ’اس کا کیا مطلب ہے؟ اگر آپ نظام شمسی کی تاریخ کے مطابق کھونے والے حصے کا اندازہ لگائیں تو یہ تقریبا ایک ہزار سے نو ہزار فٹ بنتا ہے۔ چنانچہ ایک بڑے پہاڑ کے برابر نائٹروجن برف ہٹ چکی ہے۔‘
یہ مقدار اتنی زیادہ نہیں ہے کہ پلوٹو کے تمام کرہ ارض کو ختم کر دے لیکن اس کے اثرات اس کی سطح پر ہوسکتے ہیں جہاں برف بخارات بن رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
واضح رہے کہ نیو ہورائزنز 14 جولائی کو گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق صبح 11:50 پر اس سیارے کے قریب ترین پہنچا تھا اور اس کا پلوٹو سے فاصلہ صرف 12,500 کلومیٹر تھا۔
پلوٹو کے قریب سے 14 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے گزرتے ہوئے نیو ہورائزنز نے سیارے کی تفصیلی تصاویر کھینچیں اور اس کے بارے میں دیگر سائنسی معلومات اکٹھی کیں۔
نیو ہورائزنز کا 2370 کلومیٹر چوڑے پلوٹو کے قریب سے گزرنا خلا کو جاننے کی تاریخ کا انتہائی اہم لمحہ ہے۔
اس کامیابی کے نتیجے میں عطارد سے لے کر پلوٹو تک نظامِ شمسی کے تمام نو کلاسیکی سیاروں تک کم از کم ایک خلائی سفر کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔







