’کچھوے کی چال‘ کے بیان پر شدید ردِ عمل

اقوام متحدہ کے افسران نے اپنے سیکریٹری جنرل کی اس تنقید پر شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے کہ ادارے میں موسمیاتی تبدیلی کے موضوع پر مذاکرات ’کچھوے کی چال‘ چل رہے ہیں۔
گذشتہ کچھ عرصے سے سیکریٹری جنرل بان کی مون شکایت کر رہے ہیں کہ اس مسئلے پر مذاکرات جس سست روی کا شکار ہیں اس سے خدشہ ہے کہ اس سال دسمبر تک موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے کسی عالمی معاہدے پر نہیں پہنچا جا سکے گا۔
حال ہی میں جرمنی میں اقوام متحدہ کے ایک اجلاس کے کئی شرکاء نے بان کی مون کے خدشات سے اتفاق کیا تھا۔
لیکن مذکورہ معاہدے کا مسودہ تیار کرنے والے افسران میں سے ایک کا کہنا ہے کہ اگر ہم گھونگھے کی رفتار پر بھی کام کرتے رہے تو اس معاہدے کا مسودہ پیرس میں ہونے والے اجلاس تک تیار ہو جائے گا۔
نیویارک میں بان کی مون کے کئی منزلہ دفتر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے احمد جوگہالف کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص ایک بلند عمارت کی 38ویں منزل پر بیٹھا ہو تو اسے کیا معلوم ہو گا کہ عمارت کی زیریں منزل یا بیسمنٹ میں کیا ہو رہا ہے۔
احمد جوگہالف نے ان خیالات کا اظہار جرمنی کے شہر بون میں کیا جہاں وہ اور ان کے ہم منصب ڈین ریفسنائڈر ان دنوں مذکورہ عالمی معاہدے کے مسودے پر کام کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے رکن ممالک رواں سال کے آخر میں پیرس میں اس مسودے پر مذاکرات کریں گے۔
اقوامِ متحدہ کے متعلقہ افسران نے اس سال جون میں جو پہلا مسودہ تیار کیا تھا اس میں ان تمام نکات کو شامل کیا گیا تھا جو گذشتہ تین برسوں میں مختلف ممالک کی جانب سے پیش کیے جا چکے ہیں۔
مختلف ممالک کی تجاویز اتنی زیادہ تھیں کہ یہ مسودہ 83 صفحات پر پھیل گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

گذشتہ ایک ہفتے سے بون میں اس ضخیم دستاویز پر کام کیا جاتا رہا، لیکن زیادہ تر ممالک کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ یہ مسودہ بہت طویل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ احمد جوگہالف اور ان کے ساتھی ڈین ریفسنائڈر کو چاہیے کہ وہ ایک ایسا مسودہ تیار کریں جو قدرے مختصر ہو۔
بون کے اجلاس میں شریک مالدیپ کے نمائندے امجد عبداللہ کا کہنا تھا کہ ’یہ اجلاس جس رفتار پر کام کر رہا ہے اسے دیکھ کر ہمیں شدید کوفت ہو رہی ہے۔ میرے خیال میں اب وقت آگیا ہے کہ یہ دونوں حضرات ایسا مسودہ پیش کریں جس سے مذاکرات کو بنیاد فراہم ہو اور ہم اکتوبر میں بات چیت کا باقاعدہ آغاز کر سکیں۔‘
اگرچہ موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے کئی معاملات پر مختلف ممالک کی جانب سے پیش کیے جانے والے نکات پر کچھ پیش رفت ہوئی ہے، لیکن ابھی کئی بڑے مسائل حل نہیں ہوئے ہیں، مثلاً موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے کے حل کے لیے رقم کون فراہم کرے گا اور کون سا ملک اس کا کتنا ذمہ دار ہے۔
بون میں برطانیہ کی نمائندگی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرن کے مشیر پروفیسر مائیکل جیکبز کر رہے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہم سیاسی حوالے سے اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں ہر کوئی چاہتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی پر کوئی معاہدہ طے پا جائے، تاہم اس معاہدے کی شکل پر ابھی تک سوالیہ نشان لگا ہوا ہے۔‘







