’کاربن ڈائی اوکسائیڈ کے اخراج سے سمندری پانی تیزابی ہو رہا ہے‘

،تصویر کا ذریعہ Getty Images
سائنسدانوں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر کاربن ڈائی اوکسائیڈ کے اخراج میں واضح کمی نہیں کی گئی تو سمندری حیات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔
جریدے سائنس میں لکھے گئے اس مضمون میں ماہرین نے کہا ہے کہ کاربن ڈائی اوکسائیڈ کے اخراج کے باعث سمندر گرم ہو رہے ہیں، آکسیجن کی کمی ہو رہی ہے اور زیادہ تیزابی ہوتے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتوں کی جانب سے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے اجلاس میں عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو دو سینٹی گریڈ تک محدود رکھنا سمندری نظام پر پڑنے والے اثرات کو روک نہیں سکے گا۔
سائنس جریدے میں سائنسدانوں نے لکھا ہے کہ سمندروں کو بچانے کے لیے آپشنز میں کمی ہو رہی ہے اور جو آپشنز بچی ہیں وہ مہنگی سے مہنگی ہوتی جا رہی ہیں۔
اس رپورٹ کے لیے دنیا کے 22 بڑے سائنسدانوں نے اس رپورٹ کے لیے کام کیا ہے۔
ان کے خیال میں سیاستدان جو موسمی تبدیلی کے مسئلے کو حل کرنے میں لگے ہوئے ہیں انھوں نے موسمی تبدیلی کے سمندروں پر اثرات پر بہت کم توجہ دی ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ واضح ہے کہ ایندھن کے جلائے جانے کے باعث پیدا ہونے والی کاربن ڈائی اوکسائیڈ کی وجہ سے سمندروں کی کیمیا بہت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی 250 ملین سال قبل ہونے والی تبدیلی سے بھی تیز ہے۔
سائنسدانوں نے متنبہ کیا ہے کہ 1750 سے جو کاربن ڈائی اوکسائیڈ پیدا کی گئی ہے اس کا 30 فیصد حصہ سمندروں نے جذب کر لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ کاربن ڈائی اوکسائیڈ ہلکی سے تیزابی گیں ہوتی ہے اس لیے سمندری پانی تیزابی ہو گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا ہے کہ سمندروں نے 1970 سے صنعتی علاقوں کی جانب سے پیدا کی گئی حدت کو بھی جذب کیا ہے جس کے باعث سمندر گرم ہو گئے ہیں اور اس کے باعث آکسیجن میں کمی واقع ہوئی ہے۔







