عالمی حدت میں اضافے کا عمل ’تھما‘ نہیں ہے

’ایک پیچیدہ موضوع پر اس تحقیق کو حرفِ آخر نہیں کہا جا سکتا‘

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشن’ایک پیچیدہ موضوع پر اس تحقیق کو حرفِ آخر نہیں کہا جا سکتا‘

امریکی سائنس دانوں کے مطابق نئے شواہد سے اس خیال پر شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں کہ حالیہ برسوں میں عالمی حدت میں اضافہ رک گیا ہے۔

امریکی حکومت کی ایک لیبارٹری کے مطابق عالمی حدت میں اضافہ رک جانے کی باتیں غط اعداد و شمار کی وجہ سے محض ایک مفروضہ ہیں۔

امریکہ کے سمندری اور فضائی تحقیق کے ادارہ اوشیانوگرافک اینڈ ایٹماسفیرک ایڈمنسٹریشن (Noaa) کے سائنس دانوں کے مطابق تازہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی حدت میں ہونے والا اضافہ تھما نہیں ہے۔

لیبارٹری کے سائنس دان ڈاکٹر ٹامس کیرل کے مطابق ’ہمیں امید ہے کہ اس سے عام لوگوں کو آگاہ کیا جا سکے گا کہ اصل میں آج بھی درجۂ حرارت میں اضافے کا عمل رکا نہیں ہے۔‘

اس تحقیق پر بات کرتے ہوئے یونیورسٹی آف ریڈنگز کے ڈاکٹر ایڈ ہاکنز نے کہا: ’اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حال ہی میں عالمی درجۂ حرارت میں کمی پرانے تصور کے برعکس بہت معمولی ہے۔‘

عالمی درجۂ حرارت میں ہونے والے اضافے کے تھم جانے کے تصور کی وجہ سے کئی سوالات نے جنم لیا تھا کہ 20ویں صدی کے آخری حصے کے برعکس اب درجۂ حرارت میں اضافہ کیوں رک گیا ہے۔

درجۂ حرارت میں اضافے کے رک جانے کے بارے میں کئی وضاحتیں پیش کی گئیں جس میں آتش فشانی عمل اور شمسی، سمندری سرگرمیوں میں تبدیلی شامل ہے۔

عالمی درجۂ حرارت میں ہونے والے اضافے کے رک جانے کے تصور کی وجہ سے کئی سوالات نے جنم لیا تھا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنعالمی درجۂ حرارت میں ہونے والے اضافے کے رک جانے کے تصور کی وجہ سے کئی سوالات نے جنم لیا تھا

درجۂ حرارت کے بارے میں تازہ تجزیے میں سمندری لہروں کی سرگرمیوں کے مشاہدے اور سمندر کی سطح کے درجۂ حرارت کے بارے میں معلومات شامل ہیں۔

محکمۂ موسمیات ہیڈلی سینٹر کے ڈاکٹر پیٹر سٹوٹ کے مطابق نتائج سے اب بھی ظاہر ہوتا ہے کہ گذشتہ 15 سال کے دوران درجۂ حرارت میں اضافہ کے رجحان میں اس سے پہلے کے 15 سال کے مقابلے میں کمی ہوئی ہے اور عالمی حدت میں اضافہ زیادہ یکسانی کے ساتھ نہیں ہوا ہے۔

’اس کا مطلب ہے کہ موسموں کے نظام میں قدرتی تغیر پذیری اور دیگر اندرونی پہلو اب بھی اثر رکھتے ہیں اور یہ اہمیت کے حامل ہیں اور اس کو مکمل طور پر سمجھنے کے بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔‘

یونیورسٹی آف لیڈز کے پروفیسر پیئرز فوسٹر کے مطابق ایک پیچیدہ موضوع پر حالیہ تحقیق حرفِ آخر نہیں ہے۔

’یہ تحقیق اس حقیقت سے الگ نہیں کر سکتی کہ انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے موسمی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور ہمیں موسم میں مختصر دورانیے کے لیے آنے والی تبدیلیوں کو سمجھنے کی زیادہ ضرورت ہے۔‘