| | نئے صدر باراک اوباما نے اپنی تقریر میں امریکہ کی تشکیلِ نو کا عندیہ دیا |
امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر باراک اوباما نے ملک کے چوالیسویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا ہے۔ باراک اوباما کے حلف اٹھانے سے قبل جو بائیڈن نے نائب صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔  | سیاہ فاموں کی تاریخ میں سنگِ میل  1861 خانہ جنگی کا آغاز 1865 خانہ جنگی ختم، غلامی کا خاتمہ 1870 ہرام ریول پہلے سینیٹر منتخب، افریقی امریکی مردوں کو ووٹ کا حق 1954 نافرمانی کی تحریک شروع 1963 مارٹن لوتھر کنگ کی مشہور تقریر آئی ہیو اے ڈریم (میرا ایک خواب ہے) 1964 سول رائٹس ایکٹ مننظور 1965 ووٹ کے حق کی ضمانت |
حلف برداری کی تقریب امریکی کانگریس کی عمارت یا کیپیٹل ہل پر منعقد ہوئی جس میں دس لاکھ افراد نے شرکت کی۔امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر نے اس بائبل پر حلف اٹھایا جس پر امریکہ کے سولہویں صدر ابراہم لنکن نے حلف لیا تھا۔امریکہ سے غلامی کا خاتمہ ابراہم لنکن کی کوششوں کے نتیجے میں ہی ہوا تھا۔ انہوں نے اپنے افتتاحی خطاب کے دوران اس بات کا عہد کیا کہ وہ امریکہ کی تشکیلِ نو کریں گے۔ حلف برداری کے بعد واشنگٹن میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے باراک اوباما نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’میں یہاں ہمارے آباؤ اجداد کی قربانیوں کی یاد لیے، لوگوں کی جانب سے مجھ پر کیے جانے والے اعتماد کا شکریہ ادا کرنے کے لیے کھڑا ہوں۔اب تک چوالیس امریکی عہدۂ صدارت کا حلف اٹھا چکے ہیں لیکن آج تک امریکہ کا سفر صرف ان اعلٰی عہدوں پر کام کرنے والے افراد کی صلاحیتوں اور ذہانت کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم عوام اپنے آباؤاجداد کی اقدار سے وفادار رہے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ذمہ دارانہ انداز سے عراق کو اس کے عوام کے حوالے کرنا شروع کریں گے اور افغانستان میں مشکل سے حاصل کیا گیا امن قائم رکھیں گے۔ ہم اپنے پرانے دوستوں اور سابق دشمنوں سے مل کر جوہری ہتھیاروں میں کمی کے لیے انتھک کوششیں کریں گے‘۔ امریکہ کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’یہ بات سب جانتے ہیں کہ آج ہم ایک بحران کا شکار ہیں۔ ہماری قوم تشدد اور نفرت کا پرچار کرنے والے نیٹ ورک کے خلاف حالتِ جنگ میں ہے۔ ہماری معیشت بری طرح کمزور ہو چکی ہے جس کی وجہ جہاں کچھ افراد کی غیر ذمہ داری اور لالچ ہے وہیں مشکل فیصلے کرنے اور ایک نئے دور کے لیے قوم کو تیار کرنے میں ہماری کوتاہی بھی ہے۔‘  | اوباما کو اقتصادی چیلنج  بے روزگاری سولہ سال میں سب سے زیادہ پرچون کی بکری میں لگاتار چھ ماہ سے کمی گزشتہ سال کے مقابلے گاڑیوں کی فروخت بائیس فیصد کم گھروں کی فروخت سترہ برسوں میں سب سے کم تجارتی خسارہ، چالیس ارب ڈالر، پانچ برسوں میں سب سے زیادہ |
نئے صدر اپنے خطاب میں دنیا کے غریبوں اور مسلم دنیا سے بھی مخاطب ہوئے جو کہ گزشتہ صدر جارج بش کی پالیسیوں سے نالاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب سے امریکہ نئی راہ تلاش کرے گا جو باہمی مفاد اور باہمی احترام پر مبنی ہو گی۔ شدید سردی کے باوجود واشنگٹن کے نیشنل مال پر صبح سویرے سے ہی بڑی تعداد میں لوگ پہنچنا شروع ہوئے تھے۔حلف برداری کی تقریب کے لیے غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے اور شہر میں تقریباً چالیس ہزار سکیورٹی اہلکار ڈیوٹی پر تعینات یا سٹینڈ بائی تھے۔ تقریب کا آغاز نئے صدر اور نائب صدر کے لیے تحفظ اور سلامتی کی دعا سے کیا گیا۔ اس دوران صدر اوباما متانت اور سنجیدگی سے آنکھیں بند کیے رکی وارن کی پڑھی جانے والی دعا سنتے رہے۔ اس کے بعد ہلکی ہوا اور نیلے آسمان تلے آریتھا فرینکلن نے امریکہ کا قومی ترانہ گایا۔ ان کی گائیکی کے دوران وہاں موجود ہزاروں لوگ امریکہ کے جھنڈے لہرا رہے تھے۔ نامہ نگاروں کے مطابق امریکہ میں یہ احساس ہے کہ تاریخ کے نئے باب کا آغاز ہو رہا ہے۔لیکن نئے صدر کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ امریکہ شدید اقتصادی بحران کی زد میں ہے اور عراق اور افغانستان میں جنگوں میں گھرا ہوا ہے۔ فوری مسئلہ اس غیر یقینی کی کیفیت سے نمٹنے کا ہے جو مالی بحران کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے اور جس کی وجہ سے ہر مہینے لاکھوں کی تعداد میں امریکی بے روزگار ہو رہے ہیں۔ دنیا بھر میں لوگوں کی مسٹر اوباما سے زبردست توقعات وابستہ ہیں۔ مبصرین کے مطابق اس بات پر خاص توجہ ہوگی کہ ایران اور فلسطین کے مسئلوں پر کیا موقف اختیار کرتے ہیں۔ | | نئے صدر باراک اوباما اور ان کی اہلیہ مشیل اوباما سابق صدر جارج بش اور ان کی اہلیہ لورا بش کے ہمراہ |
|