یک طرفہ جنگ بندی کی تجویز پر فیصلہ آج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان تین ہفتے سے جاری لڑائی ختم کرانے کے لیے سفارتی کوششوں میں پیش رفت کے اشارے ہیں اور اس پس منظر میں اسرائیلی کابینہ یک طرفہ جنگ بندی کی تجویز پر آج ووٹنگ کے ذریعہ فیصلہ کرے گی۔ اسرائیل اور امریکہ نے ایک سمجھوتے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت غزہ میں اسلحے کی سمگلنگ کو روکا جائے گا۔ اپنی کارروائی روکنے کے لیے اسرائیل کی یہ ایک بنیادی شرط تھی۔ اسی دوران بی بی سی کے ایک نامہ نگار کرسٹین فریزر اسرائیلی پابندی کے باوجود جنوبی غزہ میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں جہاں انہوں نے بمباری سے ہونے والی تباہی کے مناظر دیکھے ہیں۔
نامہ نگار کا کہنا ہے کہ وہاں حالات کافی خراب ہیں۔ کھانے پینے کی اشیاء اور بجلی کی سپلائی محدود ہے اور پانی کی سپلائی بند ہے۔ ادھر قاہرہ میں مغربی سفارتکاروں کا کہنا ہےکہ آج یا کل اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرٹ، فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس اور مصر کے صدر حسنی مبارک بھی ممکنہ جنگ بندی کو مضبوط کرنے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کرسکتے ہیں۔ بی بی سی کے ایڈم مائنوٹ کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے ذریعہ اس مسئلے کو حل کرنے کی راہ میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں کافی پیش رفت ہوئی ہے۔ ِخیال کیا جاتا ہے کہ ستائیس دسمبر سے جاری اسرائیلی کارروائی میں اب تک 1170 لوگ ہلاک ہوچکے ہیں اور پانچ ہزار ایک سو زخمی ہوئے ہیں۔
اسرائیلی حکومت کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ ’لڑائی آخری مرحلے‘ میں داخل ہو رہی ہے۔ غزہ شہر میں کام کرنے والے طبی ذرائع نے کہا ہے کہ انہوں نے شہر کی عمارتوں کے ملبے تلے سے تیئس لاشیں نکالی ہیں۔ دوسری طرف حماس کے شدت پسندوں نے اسرائیل پر راکٹ حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ غربِ اردن میں اسرائیلی حملوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ایک نوجوان ہلاک ہو گیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے کہا ہے کہ مصری انٹیلی جنس چیف عمر سلیمان سے بات چیت میں ٹھوس پیش رفت ہوئی ہے جس کی بنیاد پر مسٹر اولمرٹ اور وزیر دفاع ایہود براک یک طرفہ جنگ بندی کے معاہدے پر غور کریں گے۔ ’مذاکرات کے بعد قومی سلامتی سے متعلق کابینہ کی کمیٹی اس تجویز پر ووٹنگ کے ذریعہ فیصلہ کرے گی۔‘ اس سے قبل وزیر خارجہ زپی لیونی نے واشنگٹن میں کہا کہ اگر حماس نے راکٹوں کے حملے جاری رکھے تو اسرائیل جنگ بندی کی پاسداری نہیں کرے گا۔
معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا کہ وہ امید کرتی ہیں کہ اس معاہدے کے بعد ’غزہ کو اسرائیل کے خلاف حملوں کے لیے پھر کبھی استعمال نہیں کیا جاسکے گا۔‘ حماس کے رہنما بھی بات چیت کے لیے قاہرہ لوٹ گئے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ فائر بندی کے معاہدے میں یہ بات شامل ہونی چاہیے کہ اسرائیلی افواج ایک ہفتے کے اندر غزہ سے نکل جائیں اور علاقے کی ناکہ بندی فوراً ختم کر دی جائے۔ حماس کے رہنما خالد مشعل نے کہا ہے کہ ان کی تنظیم جنگ بندی کے لیے اسرائیل کی شرائط تسلیم نہیں کرے گی۔ انہوں نے دوحہ میں کہا کہ ’ اس تمام تباہی کے باوجود میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم اسرائیل کی شرائط تسلیم نہیں کریں گے۔‘ غرب اردن میں فلسطینی اتھارٹی کے رہنماؤں سے ملنے کے بعد اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کیمون نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ لڑائی بند کر دے۔ انہوں نے کہا کہ ’میں فوری فائربندی دیکھنا چاہوں گا۔‘ |
اسی بارے میں غزہ:’نوے ہزار فلسطینی دربدر‘13 January, 2009 | آس پاس اسرائیلی پیشقدمی جاری، جنگ بندی کی تازہ اپیل13 January, 2009 | آس پاس نو سو کے قریب ہلاکتیں، ریزرو فوج بھی میدان میں12 January, 2009 | آس پاس غزہ:’فاسفورس بموں کا استعمال‘11 January, 2009 | آس پاس غزہ میں کارروائی کے خلاف مظاہرے11 January, 2009 | آس پاس غزہ میں بمباری، مصر میں مذاکرات10 January, 2009 | آس پاس اسرائیل اور امریکہ پر شدید تنقید10 January, 2009 | آس پاس غزہ: امدادی کارروائی بحال، حملے جاری10 January, 2009 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||