شمالی، جنوبی کوریا کے مذاکرات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان فوجی معاملات پر ہونے والے مذاکرت جمعرات کو بغیر کسی نتیجہ کے ختم ہوگئے ہیں۔ شمالی اور جنوبی کوریا کے مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکی سفیر کرسٹوفر ہل شمالی کوریا سے جوہری پروگرام سےمتعلق مذاکرات کے لیے پیانگ یانگ پہنچے ہیں۔ شمالی کوریا نے دھمکی دی ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ شروع کر رہا ہے کیونکہ امریکہ نے وعدے کے باوجود اسے دہشتگردی کی حمایت کرنے والے ممالک کی فہرست سے خارج نہیں کیا ہے۔ شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان دوبارہ مذاکرات جنوبی کوریا میں فرروری میں ہونے والے نئے صدراتی انتخابات کے بعد پہلی بار ہوئے ہیں۔ شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے درمیان حالیہ ماہ میں تعلقات ایک بار پھر کشیدہ ہو چکے ہیں۔ شمالی کوریا جنوبی کوریا کے نئے صدر لی میانگ بیک کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور الزام لگاتے رہے ہیں کہ وہ امریکہ کے ’خوشامدی‘ ہے۔ جنوبی کوریا کے ایک اہلکار نے بتایا کہ مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے اور مذاکرات مقررہ وقت سے پہلے ختم ہوگئے تھے۔ امریکہ کا موقف ہے کہ شمالی کوریا کو اپنے جوہری پروگرام میں مزید رسائی مہیا کرنی ہو گی تاکہ یہ پتہ لگایا جا سکے کہ شمالی کوریا نے اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں۔ |
اسی بارے میں شمالی کوریا جوہری پلانٹ کھول دیاگیا24 September, 2008 | آس پاس توقعات کے برعکس شمالی کوریا کے 60 برس09 September, 2008 | آس پاس شمالی کوریا جوہری معائنے پر تیار12 July, 2008 | آس پاس یورینیم افزودگی باعثِ تشویش: بش06 July, 2008 | آس پاس شمالی، جنوبی کوریا کی ملاقات02 October, 2007 | آس پاس جنوبی کوریائی صدر کا تاریخ ساز قدم02 October, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||