BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 02 October, 2008, 07:22 GMT 12:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شمالی، جنوبی کوریا کے مذاکرات
فائل فوٹو
شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان تعلقات دوبارہ کشیدہ ہو چکے ہیں
شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان فوجی معاملات پر ہونے والے مذاکرت جمعرات کو بغیر کسی نتیجہ کے ختم ہوگئے ہیں۔

شمالی اور جنوبی کوریا کے مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکی سفیر کرسٹوفر ہل شمالی کوریا سے جوہری پروگرام سےمتعلق مذاکرات کے لیے پیانگ یانگ پہنچے ہیں۔

شمالی کوریا نے دھمکی دی ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ شروع کر رہا ہے کیونکہ امریکہ نے وعدے کے باوجود اسے دہشتگردی کی حمایت کرنے والے ممالک کی فہرست سے خارج نہیں کیا ہے۔

شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان دوبارہ مذاکرات جنوبی کوریا میں فرروری میں ہونے والے نئے صدراتی انتخابات کے بعد پہلی بار ہوئے ہیں۔

شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے درمیان حالیہ ماہ میں تعلقات ایک بار پھر کشیدہ ہو چکے ہیں۔

شمالی کوریا جنوبی کوریا کے نئے صدر لی میانگ بیک کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور الزام لگاتے رہے ہیں کہ وہ امریکہ کے ’خوشامدی‘ ہے۔

جنوبی کوریا کے ایک اہلکار نے بتایا کہ مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے اور مذاکرات مقررہ وقت سے پہلے ختم ہوگئے تھے۔

امریکہ کا موقف ہے کہ شمالی کوریا کو اپنے جوہری پروگرام میں مزید رسائی مہیا کرنی ہو گی تاکہ یہ پتہ لگایا جا سکے کہ شمالی کوریا نے اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں۔

شمالی اور جنوبی کوریائی صدورشمالی و جنوبی کوریا
امن کے لیے دونوں اطراف کے سربراہ ملیں گے
تناؤ کی تاریخ
شمالی کوریا کے جوہری دھماکے سے پہلے کیا ہوا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد