BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 01 September, 2008, 11:41 GMT 16:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اہم صوبہ الانبار عراق کے حوالے
امریکی فوج
امریکی فوج کا عراق سے انخلاء امن عامہ کی صورتحال پر منحصر ہے
امریکی فوج ایک تقریب میں الانبار صوبہ عراق کے حوالے کر رہی ہے جو کبھی سنّی شدت پسندوں کا گڑھ تھا۔

سنہ 2006 میں الانبار صوبے میں اس وقت تبدیلی شروع ہوئی تھی جب یہاں کے شدت پسند القاعدہ کے خلاف ہوکر امریکہ کے اتحادی بن گئے تھے۔

عراق میں ہلاک ہونے والے ایک چوتھائی سے زیادہ امریکی فوجی اسی صوبے میں مارے گئے تھے جو عراق کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔الانبار کی منتقلی کے بعد اب امریکی افواج ملک کے 18 میں سے گیارہ صوبوں کی سکیورٹی سنبھالیں گی۔

رمادی میں سرکاری عمارتوں کو قبائلی پرچم سے سجایا گیا اس تقریب میں امریکی ، عراقی اور قبائلی افسران نے شرکت کی۔

بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار مائیک سارجنٹ کا کہنا ہے کہ الانبار کی منتقلی عراق میں امریکہ کے لیے سنگِ میل کے پتھر کی مانند ہے۔تاہم ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ کیا یہ مسلح سنّی قبائیلی جنہوں نے القاعدہ کے ساتھ لڑنے میں امریکہ کی مدد کی ہے کبھی عراق کا قومی حکومت کے ساتھ مل کر کام کر پائیں گے۔

عراق میں اعلی امریکی کمانڈر مرین میجر جنرل جان کیلی نے ایسو سی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ الانبار میں امریکی فوجیوں کی تعداد کم کر دی جائے گی لیکن ایسا فوری طور پر نہیں ہوگا بلکہ آہستہ آہستہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا عراقی پولیس اور فوجیوں کی تعداد پانچ سے بڑھ کر اب 37000 ہو گئی ہے۔

الانبار کے نئے پولیس چیف ماجد العصافی کا کہنا تھا کہ ’ہماری فروسز سکیورٹی کی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے تیار ہیں‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد