اہم صوبہ الانبار عراق کے حوالے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج ایک تقریب میں الانبار صوبہ عراق کے حوالے کر رہی ہے جو کبھی سنّی شدت پسندوں کا گڑھ تھا۔ سنہ 2006 میں الانبار صوبے میں اس وقت تبدیلی شروع ہوئی تھی جب یہاں کے شدت پسند القاعدہ کے خلاف ہوکر امریکہ کے اتحادی بن گئے تھے۔ عراق میں ہلاک ہونے والے ایک چوتھائی سے زیادہ امریکی فوجی اسی صوبے میں مارے گئے تھے جو عراق کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔الانبار کی منتقلی کے بعد اب امریکی افواج ملک کے 18 میں سے گیارہ صوبوں کی سکیورٹی سنبھالیں گی۔ رمادی میں سرکاری عمارتوں کو قبائلی پرچم سے سجایا گیا اس تقریب میں امریکی ، عراقی اور قبائلی افسران نے شرکت کی۔ بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار مائیک سارجنٹ کا کہنا ہے کہ الانبار کی منتقلی عراق میں امریکہ کے لیے سنگِ میل کے پتھر کی مانند ہے۔تاہم ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ کیا یہ مسلح سنّی قبائیلی جنہوں نے القاعدہ کے ساتھ لڑنے میں امریکہ کی مدد کی ہے کبھی عراق کا قومی حکومت کے ساتھ مل کر کام کر پائیں گے۔ عراق میں اعلی امریکی کمانڈر مرین میجر جنرل جان کیلی نے ایسو سی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ الانبار میں امریکی فوجیوں کی تعداد کم کر دی جائے گی لیکن ایسا فوری طور پر نہیں ہوگا بلکہ آہستہ آہستہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا عراقی پولیس اور فوجیوں کی تعداد پانچ سے بڑھ کر اب 37000 ہو گئی ہے۔ الانبار کے نئے پولیس چیف ماجد العصافی کا کہنا تھا کہ ’ہماری فروسز سکیورٹی کی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے تیار ہیں‘۔ | اسی بارے میں عراق: خودکش حملہ، اٹھارہ ہلاک15 August, 2008 | آس پاس الصدر مزاحمت روکنے پر رضامند 08 August, 2008 | آس پاس مزاحمت کاروں کے خلاف بڑی کارروائی29 July, 2008 | آس پاس عراق دھماکوں میں پچاس ہلاک28 July, 2008 | آس پاس عراق میں خودکش حملے 19 ہلاک28 July, 2008 | آس پاس خود کش حملے، پینتیس ہلاک15 July, 2008 | آس پاس یو اے ای نےعراقی قرضےمعاف07 July, 2008 | آس پاس عراق: فوجی انخلاء کا فیصلہ متوقع10 June, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||