الصدر مزاحمت روکنے پر رضامند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کی بااثر شیعہ تنظیم مہدی آرمی نے عراق سے غیر ملکی فوجیوں کی واپسی سے متعلق ہونے والی بات چیت کے نتائج تک مزاحمت روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مقتدیٰ الصدر جمعہ کے خطبہ میں اپنے حامیوں کو ہدایت کریں گے کہ وہ اسلحہ لے کر چلنے سے گریز کریں۔ بغداد میں بی بی سی کے کرسپن تھورلڈ نے شیعہ لیڈر کی اس حکمت عملی کا جائزہ لیا ہے۔ مقتدیٰ الصدر کی حامی جماعت کے لیے یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے لیکن وہ امن کو موقع دینا چاہتے ہیں۔ مقتدی الصدر کے ترجمان شیخ اوبیدی نے بی بی سی کو بتایا کہ جب تک عراق میں امریکی فوجیوں کے قیام کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں ہو جاتا اس وقت تک مہدی ملیشیا کا کوئی رکن ہتھیاروں کے ساتھ نہیں چلے گا۔ اس وقت عراقی حکومت اور امریکی انتظامیہ کے درمیان عراق میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کے حوالے سے بات چیت ہو رہی ہے۔ مقتدیٰ الصدر کے ترجمان شیخ اوبیدی نے کہا ہے کہ جب امریکی فوجیوں کے عراق رہنے سے متعلق کوئی معاہدہ ہو جائے گا تو اس کے بعد ان کی جماعت اپنا ردعمل ظاہر کریں گے لیکن یہ واضح ہے کہ جب تک یہ مذاکرات جاری ہیں وہ امریکی قبضے کی خلاف مزاحمت نہیں کریں گے۔ عراق پر امریکی اور برطانوی حملے کے بعد مہدی ملیشیا عراق کی سب سے طاقتور ملیشیا کے طور پر سامنے آئی ہے لیکن حالیہ مہینوں اس کو کافی دھچکے لگے ہیں۔ عراقی فوجیوں کے بصرہ اور دوسرے شہروں میں مقتدی الصدر کی حامی جماعت کے خلاف آپریشن میں مقتدی الصدر کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن اس کی حیثیت پر کوئی بڑا سوال ابھی تک نہیں اٹھا ہے۔ حالیہ مہینوں میں کچھ شواہد بھی سامنے آئے ہیں جن کے مطابق مقتدی الصدر اپنے پالیسیوں میں تبدیلیوں کا بھی سوچ رہے ہیں۔ تیرہ جون کو کوفہ کی مسجد میں جمعہ کی نماز کے بعد مقتدیٰ الصدر کا ایک خط پڑھ کی سنایا گیا جس کے مطابق مہدی آرمی اب کئی حصوں میں بانٹی جائے گا اور غیر ملکی قبضے کے لیے مزاحمت ایک حصے کی ذمہ داری ہو گی۔ مہدی ملیشیا کی بدلتی ہوئی حکمت عملی کو امریکی ماہرین مختلف زوایوں سے دیکھ رہے ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ عراقی ملیشیا اب اپنے آپکو ایرانی حمایت یافتہ لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے طریقے پر منظم کر رہی ہے جس کے مطابق تنظیم کے کچھ ممبران انتہائی تربیت یافتہ ہوں گے۔ تمام مبصرین اس بات متفق ہیں کہ مقتدی الصدر کی مہدی آرمی عراق میں ایک انتہائی اہم قوت ہے اور جب انہوں نے اگست دو ہزار سات میں فائر بندی کا اعلان کیا تھا تو اس کے بعد عراق میں تشدد میں مرنے والوں کی تعداد میں یک دم کمی واقع ہو گئی تھی۔ | اسی بارے میں ’بش نےعراقی مزاحمت کوچُھپایا‘30 September, 2006 | آس پاس ’مزاحمت کاروں کا صفایا ہوگیا ہے‘25 January, 2007 | آس پاس ’یہ شیعہ مزاحمت کاروں کا کام ہے‘30 May, 2007 | آس پاس ’مزاحمت کار متحد ہوں،اسامہ کی اپیل‘22 October, 2007 | آس پاس مزاحمت کاروں کے خلاف بڑی کارروائی29 July, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||