عراق: خودکش حملہ، اٹھارہ ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی عراق میں ایک خاتون خودکش بمبار کے حملے میں اٹھارہ افراد ہلاک اور پچہتر افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ خاتون بمبار نے عراقی شہر اسکندریہ میں شیعہ زائرین کے درمیان خود کو اڑا دیا۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ دھماکے وقت خواتین کھانا پکارہی تھیں اور بچے کھیل رہے تھے۔ اس اختتام ہفتہ پر بارہویں شیعہ امام امام مہدی کا عرس منانے کے لیے ہزاروں شیعہ زائرین کربلا کے راستے میں ہیں۔ بغداد کے رہائشی احمد السعادی نے بتایا: ’میں جیسے ہی آرام کرنے کی جگہ سے گزرا، ایک زور دار دھماکہ ہوا۔ میں نے دیکھا کہ آگ کے شعلے اٹھ رہے تھے۔‘ ’ہم فورا وہاں پہنچے اور دیکھا کہ جلی ہوئی لاشیں موجود تھیں اور زخمی لوگ مدد کے لیے چیخ رہے تھح۔ پاس میں برتنیں اور جائے نماز بکھرے ہوئے تھے۔‘ اسکندریہ میں حال ہی میں تشدد میں کمی دیکھی گئی ہے کیونکہ وہاں امریکی فوجیوں کی تعداد بڑھی ہے اور القاعدہ کے خلاف سنی مسلمانوں نے آواز اٹھائی ہے۔ | اسی بارے میں خود کش حملے، پینتیس ہلاک15 July, 2008 | آس پاس برطانوی یرغمالی کی’خود کشی‘20 July, 2008 | آس پاس مزاحمت کاروں کے خلاف بڑی کارروائی29 July, 2008 | آس پاس بغداد ٹرک دھماکے میں 12 ہلاک03 August, 2008 | آس پاس الصدر کا غیر مسلح گروہ کا اعلان10 August, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||