خفیہ کمپلیکس عوام کے لیے کھل گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جرمنی میں ایک ایسے خفیہ زمین دوز کمپلیکس کو عوام کے لیے کھول دیا گیا جسے مشرقی جرمنی کی کمیونسٹ قیادت کو کسی جوہری حملےکی صورت میں بچانے کےلیے ایک پناہ گاہ کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا۔ برلن کے شمال میں اس تین منزلہ زمین دوز پناہ گاہ کو سرد جنگ کے عروج پر انیس سو تراسی میں تعمیر کیا گیا تھا۔ جس میں اس وقت کے رہنماء اینرک ہونیکر اور ان کا چار سو افراد پر مشتمل علمہ دو ہفتوں تک رہ سکتا تھا۔ بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ بیمفورڈ کہتے ہیں اب عام لوگ سرد جنگ کے زمانے کی اِس خفیہ پناہ گاہ کے تابکاری دھونے والے غسلخانوں سے گزر کر نمی کی بو سے بسے اُن کمروں میں جا سکتے ہیں جنہیں دفاتر کے طور پر استعمال کرنے کے لیے بنایا گیا تھا اور اب یہاں کے فرنیچر پرکائی جمی دیکھی جاسکتی ہے۔ اسے جرمنی کی ایک نئی دریافت کہا جاسکتا ہے یا نہیں لیکن دیواروں پرجمی کائی اور کمروں میں بسی بو کے باوجود یہ زیر زمین عمارت مشرقی جرمنی کی تاریخ کا ایک حصہ ضرور ہے ۔
یہ پناہ گاہ سابقہ کمیونسٹ پارٹی آف جرمنی کے لیڈر ، اینرک ہونیکر اور جرمن ڈیموکریٹک ریپبلک کی اعلی قیادت کو وارسا پیکٹ اور نیٹوں میں شامل ممالک کے درمیان کسی ایٹمی جنگ کی صورت میں پناہ دینے کے لیے تعمیر کیا گیا تھا۔ جی ڈی آر وارسا پیکٹ میں شامل ممالک میں سرفہرست تھا۔ ستر کی دھائی میں تعمیر کی گئی اس پناہ گاہ میں اپنے وقت میں تمام تر حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ اور یوں اسے اس وقت دنیا کی محفوظ ترین عمارتوں میں سے ایک کہا جا سکتا تھا۔ فیلکو اسکیوں اِس ایٹمی پناہ گاہ کی تعمیر میں حصہ لینے والے تکنیکی عملے میں شامل تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میری بیوی اور ماں کو تو پتہ تھا کہ وہ کون سا خاص کام ہے جو میں کر رہا ہوں لیکن کسی اور کو اس منصوبے کے بارے میں علم نہیں تھا۔ اس منصوبے کو کوئی اتنا زیادہ خفیہ بھی نہیں رکھا گیا تھا۔ میں جی ڈی آر کا ایک عام سا شہری تھا لیکن اتنا ضرور تھا کہ میں کام سکیورٹی کی وزارت کے لیے کیا کرتا تھا۔‘ یہ پناہ گاہ مسلسل چودہ دن تک کسی بیرونی مدد کے بغیر کام کرسکتی تھی۔ ہینز ہینسل برلن بنکر نیٹ ورک نامی ادارے کے لیے کام کرتے ہیں جو عوام کےلیے اس پناہ گاہ کی سیاحت کا انتظام کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ پناہ گاہ چار سو افراد کے لیے بنائی گئی تھی اور یہاں وہ اہتمام اور انتظامات کیے گئے تھے جو کسی چھوٹے قصبے کے لیے کافی ہوں، ان انتظامات میں پانی کی فراہمی اور ترسیل ، توانائی کی پیداوار اور مکمل ائیر کنڈیشنگ تک شامل تھیں۔ مشرقی جرمنی کی تاریخ کا یہ حصہ جو ایک پہاڑی علاقےمیں پوشیدہ ہے ۔ اسے عام لوگ ابھی تو دیکھ سکتے ہیں لیکن اکتوبر کے مہینےمیں اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سیل کر دیا جائےگا۔ | اسی بارے میں ہٹلر کی نرس نے خاموشی توڑ دی02 May, 2005 | آس پاس جنگ عظیم کے 67 برس بعد واپسی02 July, 2006 | آس پاس دوسری جنگ عظیم کی60ویں سالگرہ 08 May, 2005 | آس پاس جرمنی: دائیں بازو کی کامیابی17 September, 2006 | آس پاس ’سویت قبضہ تاریخ کی بڑی غلطی‘07 May, 2005 | آس پاس ہولوکاسٹ کے منکر کی اپیل20 February, 2006 | آس پاس ظالم یا مظلوم01 November, 2003 | آس پاس نازیوں کے’کھوجی‘ کا انتقال20 September, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||