BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 10 July, 2008, 17:38 GMT 22:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ کارروائی کے لیے تیار ہونگے‘
ایران کا میزائیل تجربہ
ایران کو امریکی صلاحیتوں کے بارے میں کوئی ’کنفیوژن‘ نہیں ہونا چاہیے: کونڈولیزا رائس
اسرائیل کے وزیرِ دفاع نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل کو خطرہ محسوس ہوا تو وہ ایران کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے تیار ہوگا۔

وزیرِ دفاع ایہود باراک نے کہا ہے کہ ’اسرائیل نے ماضی میں ثابت کیا ہے کہ جب اس کے اہم سکیورٹی مفادات کو زک پہنچ رہی ہو تو وہ کارروائی کرنے سے ہچکچاتا نہیں۔‘

اسرائیلی وزیرِ دفاع کا بیان ایران کی جانب سے میزائل تجربات کے بعد سامنے آیا ہے ہیں جس کی وجہ سے ان دونوں ممالک اور خود ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

تاہم مسٹر باراک نے یہ کہا ہے کہ کوئی دوسرا راستہ اختیار کرنے سے قبل سفارتی حل تلاش کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا: ’فی الحال تمام توجہ ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں اورسفارتی سرگرمیوں پر ہے اور ان کو اختیار کیا جانا چاہیے۔‘

گزشتہ دو دنوں کے درمیان ایران کی فوج نے میزائل ٹیسٹ کیے ہیں جن میں شہاب سوئم نامی میزائل بھی شامل ہے جو اسرائیل تک مار کر سکتا ہے۔


ادھر امریکی وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا ہے کہ امریکہ نے خطے میں اپنی سکیورٹی میں اضافہ کر دیا ہے اور ایران کو امریکی صلاحیتوں کے بارے میں کوئی ’کنفیوژن‘ نہیں ہونا چاہیے۔

اسرائیل نے ایران کے تجربات کے جواب میں ایسے طیارے کی نمایش کی ہے جو بقول اس کے ایران کی جاسوسی کر سکتا ہے۔

گزشتہ روز اسرائیل اور امریکہ نےطویل فاصلے پر مار کرنے والے میزائل ’شہاب سوئم‘ کا تجربہ کرنے پر ایران کی مذمت کی تھی۔

ایران نے میزائلوں کے تجربات پہلے بھی کیے ہیں لیکن تازہ ترین تجربہ ایسے وقت کیا گیا ہے جب ایرانی جوہری پروگرام کے تنازع پر تہران کی واشنگٹن اور تل ابیب کے ساتھ کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

امریکی نائب وزیرِ خارجہ ولیئم برنز نے ایران کے اس تجربے کو ’اشتعال انگیز‘ قرار دیا۔ کانگریس کے ایک اجلاس کے دوران انہوں نے کہا ’طاقت کا استعمال ایک راستہ ہے لیکن یہ (تجویز) ابھی میز پر ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ابھی تمام سفارتی امکانات کو پوری طرح آزمایا نہیں گیا۔

ولیئم برن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران کے خلاف اقوامِ متحدہ کی پابندیاں مطلوبہ اثر پیدا کر رہی ہیں اور تہران کا جوہری پروگرام رک رہا ہے اگرچہ ایران یہ تاثر دے رہا ہے کہ اس کا پروگرام آگے بڑھ رہا ہے لیکن حقیقت میں اس کی رفتار بہت ہی کم ہے۔

امریکی صدر جارج بشایران سے مذاکرات
بش انتظامیہ پر اندروونی اور بیرونی دباؤ؟
iranایران 2010 تک
ایران ایٹم بنا سکے گا یا نہیں؟ جوناتھان مارکس
ایک نئی سرد جنگ؟
امریکہ اور ایران میں بڑھتی ہوتی ہوئی خلیج
سعید جلیلیمزید پابندیاں؟
جوہری مذاکرات ناکام، پابندیوں کا تیسرا مرحلہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد