براؤن نے اہم قانون منظور کروا لیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی حکومت نے ہاؤس آف کامنز یا ایوان زیریں سے ایک ایسا قانون منظور کروا لیا ہے جس کے تحت اب پولیس دہشت گردی کے شبہہ میں پکڑے جانے والے افراد کو چار کی بجائے چھ ہفتوں تک بغیر الزام عائد کیے حراست میں رکھ سکے گی۔ صرف چھ ووٹوں سے منظور ہونے والے اس قانون کی حکومتی لیبر پارٹی کے چھتیس اراکین نے مخالفت کی۔ بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق برطانیہ کے وزیر اعظم گورڈن براؤن اِس فتح سے سکون کا سانس تو لے سکتے ہیں لیکن صرف تھوڑی دیر کے لیے کیونکہ انسداد دہشت گردی کے لیے ان کی یہ نئی سفارشات پارلیمان سے محض نو ووٹوں سے منظور ہوئی ہیں۔ گورڈن براؤن پارلیمان سے منظوری کے لیے اراکین کی صرف ضروری تعداد کو ہی قائل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ جلد یا بدیر پولیس کو دہشت گردی کے منصوبوں سے نمٹنے کے لیے القاعدہ سے متاثر مشکوک افراد کو دیر تک حراست میں رکھنا ہوگا۔ لیکن خود ان کی لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے کئی اراکین پارلیمان نے حزب اختلاف میں شامل جماعتوں کے ساتھ مل کر ان سفارشات کی مخالفت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مشکوک افراد کو الزام عائد کیے بغیر بیالیس دن تک حراست میں رکھنا خاصی ’غیر برطانوی‘ سی بات ہے۔ قائِد حزب اختلاف اور ٹوری پارٹی کے لیڈر ڈیوڈ کیمرون نے پارلیمان میں بحث کے دوران کہا کہ دہشت گردوں کو پکڑنے میں پولیس کی مدد کا کوئی اور طریقہ نکالنا چاہیے اور کئی ماہرین ان کے ساتھ اس بات پر اتفاق بھی کرینگے۔ گزشتہ کئی روز سے برطانوی پارلیمان ویسٹ منسٹر میں خاصی کھینچا تانی ہوتی رہی۔ وزیر اعظم گورڈن براؤن نے بذات خود پارٹی کے باغی اراکین کو فون کرکے کہا کہ وہ ان کے بل کی حمایت کریں۔ ڈایان ایبٹ اُن باغیوں میں سے ایک ہیں جنہیں وزیر اعظم نے ٹیلیفون کیا لیکن ڈایان ایبٹ کا کہنا ہے کہ انہیں حکومت کا یہ کہنا کہ یہ سفارشات عوام کی منشا کے مطابق ہے قطعی پسند نہیں۔ ان سفارشات پر ووٹنگ پہلے سے مشکلات کا شکار حکومت کے لیے ایک کٹھن مرحلہ تھا۔ حد یہ ہے کہ انہیں ان سفارشات کو منظور کروانے کے لیے شمالی آئر لینڈ کی ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی پر انحصار کرنا پڑا۔ اگر مسٹر براؤن یہ اہم ووٹ ہار جاتے تو ان کی قیادت کے انداز پر سوالات کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوجاتا لیکن اب جب کہ وہ یہ ووٹ جیت ہی گئے ہیں تو ان کے مشیر اب صرف یہ امید ہی کرسکتے ہیں کہ وہ اپنے سیاسی سفر کے سب سے مشکل مرحلے سے گزر گئے ہیں۔ | اسی بارے میں ہمیں دھمکایا نہیں جا سکتا: براؤن30 June, 2007 | آس پاس مسلم مخالف جذبات کا الزام02 October, 2007 | آس پاس آٹھواں شخص آسٹریلیا سے گرفتار02 July, 2007 | آس پاس پکڑے جانے والوں میں دو ڈاکٹر01 July, 2007 | آس پاس جلتی ہوئی جیپ ہوائی اڈے میں30 June, 2007 | آس پاس تحقیقات کے لیے مزید وقت درکار11 July, 2007 | آس پاس مرکزی لندن،دھماکہ خیز مواد برآمد29 June, 2007 | آس پاس آبِ مقدس بھی جہاز میں نہیں جا سکتا30 August, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||