BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 12 June, 2008, 00:32 GMT 05:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
براؤن نے اہم قانون منظور کروا لیا
برطانوی پولیس
برطانوی پولیس اب بغیر الزام عائد کیے مشتبہ لوگوں کو چھ ہفتوں تک حراست میں رکھ سکے گی
برطانوی حکومت نے ہاؤس آف کامنز یا ایوان زیریں سے ایک ایسا قانون منظور کروا لیا ہے جس کے تحت اب پولیس دہشت گردی کے شبہہ میں پکڑے جانے والے افراد کو چار کی بجائے چھ ہفتوں تک بغیر الزام عائد کیے حراست میں رکھ سکے گی۔ صرف چھ ووٹوں سے منظور ہونے والے اس قانون کی حکومتی لیبر پارٹی کے چھتیس اراکین نے مخالفت کی۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق برطانیہ کے وزیر اعظم گورڈن براؤن اِس فتح سے سکون کا سانس تو لے سکتے ہیں لیکن صرف تھوڑی دیر کے لیے کیونکہ انسداد دہشت گردی کے لیے ان کی یہ نئی سفارشات پارلیمان سے محض نو ووٹوں سے منظور ہوئی ہیں۔

گورڈن براؤن پارلیمان سے منظوری کے لیے اراکین کی صرف ضروری تعداد کو ہی قائل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ جلد یا بدیر پولیس کو دہشت گردی کے منصوبوں سے نمٹنے کے لیے القاعدہ سے متاثر مشکوک افراد کو دیر تک حراست میں رکھنا ہوگا۔

لیکن خود ان کی لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے کئی اراکین پارلیمان نے حزب اختلاف میں شامل جماعتوں کے ساتھ مل کر ان سفارشات کی مخالفت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مشکوک افراد کو الزام عائد کیے بغیر بیالیس دن تک حراست میں رکھنا خاصی ’غیر برطانوی‘ سی بات ہے۔

قائِد حزب اختلاف اور ٹوری پارٹی کے لیڈر ڈیوڈ کیمرون نے پارلیمان میں بحث کے دوران کہا کہ دہشت گردوں کو پکڑنے میں پولیس کی مدد کا کوئی اور طریقہ نکالنا چاہیے اور کئی ماہرین ان کے ساتھ اس بات پر اتفاق بھی کرینگے۔

گزشتہ کئی روز سے برطانوی پارلیمان ویسٹ منسٹر میں خاصی کھینچا تانی ہوتی رہی۔ وزیر اعظم گورڈن براؤن نے بذات خود پارٹی کے باغی اراکین کو فون کرکے کہا کہ وہ ان کے بل کی حمایت کریں۔

ڈایان ایبٹ اُن باغیوں میں سے ایک ہیں جنہیں وزیر اعظم نے ٹیلیفون کیا لیکن ڈایان ایبٹ کا کہنا ہے کہ انہیں حکومت کا یہ کہنا کہ یہ سفارشات عوام کی منشا کے مطابق ہے قطعی پسند نہیں۔

ان سفارشات پر ووٹنگ پہلے سے مشکلات کا شکار حکومت کے لیے ایک کٹھن مرحلہ تھا۔ حد یہ ہے کہ انہیں ان سفارشات کو منظور کروانے کے لیے شمالی آئر لینڈ کی ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی پر انحصار کرنا پڑا۔

اگر مسٹر براؤن یہ اہم ووٹ ہار جاتے تو ان کی قیادت کے انداز پر سوالات کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوجاتا لیکن اب جب کہ وہ یہ ووٹ جیت ہی گئے ہیں تو ان کے مشیر اب صرف یہ امید ہی کرسکتے ہیں کہ وہ اپنے سیاسی سفر کے سب سے مشکل مرحلے سے گزر گئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد