مسلم مخالف جذبات کا الزام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک ماہرِ مذاہب نے کہا ہے کہ جو لوگ مسلمانوں پر سکھ خواتین کو شراب پلانے، پیٹنے اور ان کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کے الزامات لگاتے ہیں ان پر مذہبی منافرت پھیلانے کے مقدمات قائم کیے جانے چاہیئے۔ برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق یہ بات بریڈ فورڈ کے بشپ کے بین الامذہبی امور کے معاون فلپ لوئس نے ان دعؤوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہی جو نیٹ ورکنگ کی ایک ویب سائٹ ’فیس بُک‘ پر شائع کیے گئے ہیں۔ ’ہماری سِکھ بہنوں کوشراب ، جنسی زیادتی اور مار پیٹ سے بچائیں‘ نامی اس گروپ نے مذکورہ ویب سائٹ پر دعویٰ کیا ہے کہ تیرہ سے بائیس سال کی سکھ، ہندو اور سفید فارم لڑکیوں کو ان کی مرضی کے خلاف شراب پلانے کے بعد اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا کر مسلمان انتہا پسندوں کی تسکین کا سامان کیا جاتا ہے۔ مذکورہ گروپ نے اپنے اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا ہے اور اس انٹرنیٹ گروپ کی بانی، سنگھ کور، نے نہ ہی یہ بتایا ہے کہ ان کے ان دعؤوں کی بنیاد کیا ہے۔ فلپ لوئس نے اس بارے میں کہا کہ ’ اگر تو یہ الزامات سنجیدہ ہیں تومعاملہ پولیس کے پاس جانا چاہیئے۔ اور اگر یہ الزامات بے بنیاد ہیں تو اس گروپ کے خلاف مقدمہ چلایا جانا چاہیئے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ یہ افواہ سازی کی نہایت تباہ کن مہم ہے جسے بے نقاب کرنا بہت ضروری ہے۔ یہ کسی کو بدنام کرنے کی باقاعدہ مہم ہے اور اس سے مختلف معاشرتی فریقوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہو رہی ہے۔‘ فلپ لوئس نے مزید کہا کہ گروپ کا دعویٰ ہے کہ یہ معاملہ برطانیہ کے شہر بریڈ فورڈ میں موضوع بحث بنا ہوا ہے لیکن یہاں کام کرنے والے مذہبی لوگ اس سے بے خبر ہیں۔ اس سلسلے میں برطانوی پولیس سکاٹ لینڈ یارڈ کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ گروپ نے لندن کے بارے میں بھی کہا ہے کہ وہاں بھی لوگ اس بحت میں شامل ہیں لیکن ہمارے پاس اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ نسل پرستی کے خلاف کام کرنے والے ایک کارکن نے اس قسم کے دعوے کرنے والوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے ثبوت لیکر سامنے آئیں یا لوگوں کو بلاوجہ اکسانا بند کریں۔ راب ڈیکس ’ایک ساتھ‘ نامی ایک گروپ سے منسلک ہیں جو کہ لندن کے نواح میں واقع علاقے ’سلاؤ‘ میں سکھ، مسلمان اور ہندو نوجوانوں میں ہم آہنگی کے لئے کام کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ اس انٹرنیٹ گروپ کے پیچھے جس شخص کا بھی ہاتھ ہے وہ بد گمانی کے جذبات بڑھا رہا ہے۔ فکر مندی کی بات یہ ہے کہ انٹرنیٹ پر اس گروہ کے دعؤوں کو تین ہزار افراد درست سمجھتے ہیں۔‘ برطانیہ میں ہندوؤں اور سکھوں کے کچھ سینئر نمائندے مسلمانوں پر الزام لگاتے رہے ہیں کہ وہ ہند اور سکھ لڑکیوں کو مسلمان بنانے کے لئے خفیہ ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں تاہم اس سلسلے میں کبھی کوئی باقاعدہ تفتیش نہیں ہوئی اور نہ کبھی سرکاری اداروں میں ایسی کوئی شکایت درج کرائی گئی ہے۔ ایک سکھ تنظیم کا کہنا ہے کہ یونیورسٹیوں میں مذہب تبدیل کرنے کے واقعات کے شواہد ملتے ہیں۔ ’نیٹورک آف سکھ آرگنائزیشن‘ کے اندرجیت سنگھ نے مزید کہا کہ اصل میں ’سکھ کمیونٹی اس بات سے خاصی پریشان ہے۔‘ |
اسی بارے میں القاعدہ: سات افراد کو لمبی سزائیں15 June, 2007 | آس پاس برطانوی کابینہ میں مسلم وزیر30 June, 2007 | آس پاس اسلام کی ساکھ متاثر ہوئی: سروے12 July, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||