برطانیہ میں صرف چند امام برطانوی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی کی طرف سے کروائی گئی ایک تحقیق کے مطابق برطانیہ کی مساجد میں آٹھ فیصد امام یہاں پر پیدا ہوئے۔ بی بی سی نیوز اور بی بی سی ایشین نیٹ ورک کے لیے ہونے والی تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ برطانیہ میں صرف چھ فیصد اماموں کی پہلی زبان انگریزی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پینتالیس فیصد امام ایسے ہیں جن کا برطانیہ میں عرصہ قیام پانچ سال سے کم ہے۔ جامعۂ چیسٹر کی طرف سے کی جانے والی اس تحقیق میں تین سو مساجد کے عملے کو شامل کیا گیا۔ رپورٹ کے مصنف پروفیسر ران گیوز نے کہا کہ اس تحقیق کا مقصد مساجد کے اماموں میں برطانوی ثقافت کو اپنانے کی صلاحیت کا جائزہ لینا تھا۔ تحقیق میں شامل افراد سے پوچھا گیا کہ وہ جمعہ کا خطبہ کس زبان میں دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی جائے پیدائش، مادری زبان اور تعیلم کے بارے میں سوالات کیے گئے۔ یہ انٹرویو فروری اور مارچ دو ہزار سات کے درمیان کیے گئے۔ تحقیق کے مطابق پچاس فیصد اماموں کا تعلق پاکستان، بیس فیصد کا بنگلہ دیش اور پندرہ فیصد کا تعلق انڈیا سے تھا۔ چھیاسٹھ فیصد کی پہلی زبان اردو تھی اور باون فیصد جمعہ کا خطبہ اسی زبان میں دیتے ہیں۔ رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ چھ فیصد امام گزشتہ بارہ ماہ کے دوران برطانیہ آئے تھے اور تئیس فیصد ایسے تھے جن کا یہاں پر قیام دس سال سے زیادہ تھا۔ پروفیسر گیوز کے مطابق تحقیق سے ایسے افراد کا خاکہ سامنے آیا ہے جو انتہائی قدامت پسند ہیں، مادری زبان بولتے ہیں اور اپنی روایتی طرز تعلیم پر عمل پیرا ہیں اور زیادہ تر اپنے ملک سے ہی بھرتی کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس نظام تعلیم سے ان لوگوں کا تعلق ہے وہ قرون وسطیٰ سے تبدیل نہیں ہوا۔ | اسی بارے میں مساجد آزاد رہیں: مسلم کونسل14 May, 2006 | آس پاس برطانیہ: خارجہ پالیسی اور شدت پسندی21 August, 2006 | آس پاس امریکی میرین کا مسلمان چہرہ20 June, 2007 | آس پاس مذہب اور سیاست علیحدہ علیحدہ15 April, 2007 | آس پاس مسلمان جہاز سے اتار دیئے گئے22 November, 2006 | آس پاس آسٹریلوی امام رخصت چاہتے ہیں30 October, 2006 | آس پاس فنزبری پارک میں بردباری کی تلقین 15 July, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||