آسٹریلوی امام رخصت چاہتے ہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹریلیا میں سڈنی کے متنازعہ امام شیخ تاج الدین الہلالی نے، جنہیں مسجد ایسوسی ایشن نے خواتین کے بارے میں ایک بیان دینے پر تین ماہ کے لیے معطل کیا تھا، غیر معینہ مدت کے لیے چھٹی کی درخواست دی ہے۔ اس سے قبل امام الہلالی کو سینے میں درد کی وجہ سے ہسپتال لے جایا گیا تھا۔ امام الہلالی پیر کو لبنانی مسلمانوں کی ایک تنظیم سے ملاقات کے دوران بیہوش ہو گئے تھے جہاں سے انہیں فوری طور پر ہسپتال پہنچا دیا گا۔ لبنانی مسلمانوں کی تنظیم نے امام الہلالی کا بیان پڑھ کر سنایا جس میں انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں کے واقعات ان کی صحت پر اثر انداز ہوئے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کے خاندان اور ان کو کچھ عرصے کے لیے تنہا چھوڑ دیں۔ امام الہلالی نے اپنے ایک خطاب میں کہا تھا کہ ’غیر مناسب لباس‘ پہننے والی عورتیں جنسی زیادتی کی دعوت دیتی ہیں۔ انہوں نے ایسی خواتین کا ’غیر محفوظ گوشت‘ سے موازنہ کیا جسے انہوں نے کہا کہ بِلی کھا سکتی ہے۔ ’اگر عورت اپنے گھر میں، اپنے کمرے میں، حجاب میں رہے تو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا‘۔ امام الہلالی نے اپنے تازہ ترین بیان میں اپنے خطاب پر معذرت بھی طلب کی ہے۔ انہوں ایک بار پھر کہا ہے کہ ان کے خطاب کو ثیاق و سباق سے ہٹ کر لیا گیا تھا۔ لیکن انہوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے جو موازنہ کیا تھا وہ ’آسٹریلوی معاشرے اور بالخصوص مغربی معاشرے کے لیے ناقابل قبول تھا‘۔ سڈنی کی مسجد ایسوسی ایشن نے گزشتہ ہفتے امام الہلالی کو ان کے خطاب کی اشاعت کے بعد تین ماہ کے لیے معطل کر دیا تھا لیکن امام الہلالی نے کہا تھا کہ وہ مستعفی نہیں ہوں گے۔ | اسی بارے میں سکول کا فیصلہ درست تھا: لارڈز22 March, 2006 | آس پاس ’باپردہ ٹیچر کو فارغ کردیں‘15 October, 2006 | آس پاس تیونس: حجاب پر پابندی نافذ16 October, 2006 | آس پاس برطانیہ میں فسادات کی وارننگ22 October, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||