BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 22 March, 2006, 13:23 GMT 18:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سکول کا فیصلہ درست تھا: لارڈز
شبینہ
شبینہ نے کہا کہ وہ اس فیصلے پر اداس ہیں
برطانیہ میں ہاؤس آف لارڈز نے فیصلہ دیا ہے کہ لیوٹن کے ایک سکول نے اپنی نوعمر طالبہ کو ’جلباب‘ پہننے سے روکنے کے فیصلے پرعمل کرتے ہوئے حقوق انسانی کی خلاف ورزی نہیں کی۔

جلباب سر سے پاؤں تک جسم ڈھانپنے والا ایک لباس ہے جسے مسلمان لڑکیاں پہنتی ہیں۔

ہاؤس کے سامنے یہ سوال تھا کہ شبینہ بیگم کے خلاف اپنے فیصلے پر عمل کرتے وقت کہیں ان کے سکول نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی تو نہیں کی۔

لیوٹن کے ڈنبی ہائی سکول کے حکام نےسولہ سالہ شبینہ بیگم جلباب پہننے سے منع کیا تھا اور ایسا نہ کرنے پر ان کا نام سکول سے خارج کردیا گیا تھا۔

شبینہ کو اس مقدمے میں گزشتہ سال اس وقت کامیابی ملی جب کورٹ آف اپیل نےان کے حق میں فیصلہ دیا۔ کورٹ آف اپیل نے فیصلے میں کہا کہ ڈنبی ہائی سکول نے یونیفارم کے بارے میں پالیسی بناتے وقت ہیومن رائٹس ایکٹ کی اقدار کا خیال نہیں رکھا۔

اپیل کورٹ کے ایک جج جسٹس بروک نے فیصلے کے وقت کہا تھا کہ سکول نے شبینہ کو اپنے مذہبی تقاضے پورے کرنے سے روک دیا۔

تاہم ہاؤس آف لارڈز نے بدھ کو اس فیصلے کے خلاف کہا کہ لیوٹن کا وہ سکول جہاں شبینہ زیر تعلیم تھیں، کا انہیں جلباب پہننے سے روکنے کا فیصلہ درست تھا۔

لیوٹن کے اس سکول میں پچھہتر فیصد مسلم طالبات زیر تعلیم ہیں۔ سکول کا اس بارے میں موقف یہ تھا کہ حجاب سے صحت اور تحفظ کو خطرہ ہے اور اس سے طالبات میں تفریق کا احساس پیدا ہو سکتا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ عدالت کے اس فیصلے سے سکول انتظامیہ کی یونیفارم کے معاملے پر پالیسی سازی کو مزید توثیق حاصل ہو گی۔

ہاؤس آف لارڈز کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سکول کو یونیفارم کے بارے میں پالیسی بناتے وقت مسلم عقائد کی تکریم کو مدنظر رکھنا پڑا تھا اور سکول نے اس سلسلے میں تمام نکات کو مد نظر رکھتے ہوئے اور کسی کو تکلیف پہنچائے بغیر غیر مسابقتی راستہ اختیار کیا۔

شبینہ نے کہا کہ وکیل کےمشورے کے بعد وہ یورپین کورٹ میں اپیل کریں گی

فیصلہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شبینہ کو سکول میں داخلے کے وقت ہی سکول کی یونیفارم پالیسی کا علم تھا۔ اگرچہ وہ یہ بات بھی جانتی تھیں کہ اس علاقے میں تین اور سکول بھی ہیں جہاں حجاب پہننے پر پابندی نہیں ہے۔

شبینہ نے فیصلے کے بعد کہا کہ وہ اس فیصلے پر اداس ہیں اور یہ ان کے لیے مایوس کن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈنبی ہائی سکول میں اگرچہ مسلمان لڑکیوں کو شلوار قمیص پہننے کی اجازت تھی تاہم مذکورہ لباس اسلامی لباس کے زمرے میں نہیں آتا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے وکیل سے یورپین کورٹ میں ایک اپیل دائرکرنے کے بارے میں مشورہ کریں گی۔

اسی بارے میں
حجاب پہننے پر نام خارج
21 October, 2004 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد