آبِ مقدس بھی جہاز میں نہیں جا سکتا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دہشت گردی سے نمٹنے کے قواعد نے فرانس کے ایک ائر پورٹ پر اس وقت عجیب صورتِ حال پیدا کر دی جب ویٹیکن کے نئے چارٹرڈ طیارے پر سوار زائرین سے کہا گیا کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر وہ جہاز میں آبِ مقدس نہیں لے جا سکتے۔ جنوبی فرانس میں لارڈیس ائرپورٹ پر اہلکاروں کا کہنا تھا کہ لارڈیس میں مقدس زیارت گاہ سے حاصل کردہ پانی کی بوتلیں دہشت گردی کے خطرے کا باعث بن سکتی ہیں۔ زائرین سے کہا گیا کہ زیادہ سے زیادہ وہ ایک سو ملی لیٹر کی مقدار میں پانی کی بوتلیں جہاز میں لے جا سکتے ہیں۔اگر بوتلوں میں پانی اس مقدار سے زیادہ ہوگا تو آبِ مقدس جہاز کے دستی سامان میں نہیں جا سکے گا۔ ہوائی اڈے پر سکیورٹی اہلکاروں نے کہا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف عالمی قواعد پر عمل کرتے ہوئے زائرین کو آبِ مقدس دستی سامان میں لے جانے سے روک رہے ہیں۔ سنہ دو ہزار دو میں برطانوی پولیس کے اس دعوے کے بعد کہ امریکہ جانے والی پروازوں کو مائعات سے بنے ہوئے دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کی سازش کی گئی ہے، جہازوں پر مسافروں کے دستی سامان میں مائعات کی مقدار پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ فرانسس پیٹزو نے جو مسٹرل ائر کے صدر ہیں کہا کہ ان کی کمپنی کو عالمی سطح پر نافذ قواعد کا احترام کرنا ہے۔ اس صورتِ حال کے پیشِ نظر فضائی کمپنی نے لارڈیس سے واپسی کے لیے جہاز پر سوار ہرمسافر کو کنواری مریم کی شکل کی بنی ہوئی آبِ مقدس کی ایک چھوٹی بوتل فراہم کر دی مسٹرل ائر نے روم سے لارڈیس تک کے لیے پیر سے پروازیں شروع کی ہیں اور اس کا منصوبہ ہے کہ وہ اپنی پروازیں رومن کیتھولک کی دیگر زیارات تک وسیع کرے گی۔ | اسی بارے میں ’طیاروں کی تباہی کا منصوبہ ناکام‘ 10 August, 2006 | آس پاس ’القاعدہ منصوبہ جیسا لگتا ہے‘10 August, 2006 | آس پاس ’طیارے سازش‘ کے ایک ملزم کی رہائی12 August, 2006 | آس پاس ہیتھرو:ایک تہائی پروازیں منسوخ13 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||