BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 24 May, 2008, 14:06 GMT 19:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زِمبابوے: اپوزیشن رہنما وطن واپس
مورگن چنگرائی
ایم ڈی سی کے مطابق مورگن چنگرائی نے پچاس اعشاریہ تین فیصد ووٹ حاصل کیے
زِمبابوے میں اپوزیشن کے رہنما مورگن چنگرائی صدارتی انتخابات کے دوسرے دور کی پولِنگ میں شرکت کے لیے وطن واپس آگئے ہیں۔

سنیچر کے روز مورگن چنگرائی جنوبی افریقہ سے ایک طیارے کے ذریعے واپس دارالحکومت ہرارے پہنچے جہاں پولیس کی گاڑیاں ان کی سکیورٹی کے لیے موجود تھیں۔

جہانسبرگ میں بی بی سی کے نامہ نگار پیٹر بائلز کے مطابق مورگن چنگرائی ہرارے کے ہوائی اڈے سے سیدھی ایک نجی کلینِک میں جائیں گے جہاں وہ سیاسی تشدد کے شکار لوگوں سے ملاقات کریں گے۔

گزشتہ چند ہفتوں کے دوران چنگرائی نے پڑوسی اور مغربی ممالک کے رہنماؤں سے ملاقاتوں کے دوران زِمبابوے کے صدر رابرٹ موگابے پر دباؤ ڈالنے کی اپیلیں کی ہیں۔

موومنٹ فار ڈیموکریٹِک چینج پارٹی کے رہنما مورگن چنگرائی انتخابات کے پہلے مرحلے میں رابرٹ موگابے سے زیادہ ووٹ حاصل کر چکے ہیں لیکن انتخابی کمیشن کا کہنا ہے کہ ان کے ووٹوں کی تعداد اتنی نہیں جتنی صدر بننے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔

چنگرائی کا موقف
 مورگن چنگرائی پچھلے چار ہفتے سے ملک سے باہر تھے۔ مورگن چنگرائی کا موقف ہے کہ وہ انتخابات میں کامیابی حاصل کر چکے ہیں لیکن رابرٹ موگابے اپنی شکست تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔
مورگن چنگرائی پچھلے چار ہفتے سے ملک سے باہر تھے۔ مورگن چنگرائی کا موقف ہے کہ وہ انتخابات میں کامیابی حاصل کر چکے ہیں لیکن رابرٹ موگابے اپنی شکست تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔

ایک مرتبہ پہلے مورگن چنگرائی نے ایسی اطلاعات کے بعد کہ زمبابوے کی فوج انہیں قتل کرانے کی سازش کر رہی ہے، وطن واپسی کا پروگرام تبدیل کر دیا تھا۔ زمبابوے کی حکومت نے ایسی اطلاعات کی تردید کی ہے۔

زمبابوے میں انتخابی کا دوسرا مرحلہ ستائیس جون کو ہونا ہے۔

انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ سن 1980 سے برسرِ اقتدار صدر رابرٹ موگابے کی جماعت زانو پی ایف کے گروہوں نے ان ووٹروں کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے جنہوں نے انتخابات کے پہلے مرحلے میں صدر موگابے کو ووٹ نہیں دیا۔

زمبابوے کی حکومت نے انسانی حقوق کے گروپوں کے الزامات کی تردید کی ہے اور کہا کہ ایسےالزامات زمبابوے کی شہرت کو خراب کرنے کی سازش کا حصہ ہیں۔

چوراسی سالہ صدر موگابے انیس سو اسی میں سفید فاموں سے آزادی کے وقت قومی رہنما بن کر ابھرے تھے لیکن پچھلے چند برسوں سے زمبابوے میں دنیا کا سب سے زیادہ افراطِ زر، ایندھن اور خوردنی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے جیسے مسائل سے لوگ بہت پریشان ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد