زمبابوے: حزب اختلاف کی فتح | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زمبابوے میں حتمی سرکاری نتائج کے مطابق حزب اختلاف کی جماعت موومنٹ فار ڈیموکریٹک چینج نے پارلیمان میں اکثریت حاصل کر لی ہے۔ ان نتائج کے مطابق حزب اختلاف کی جماعت نے ننانوے نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے جبکہ صدر رابرٹ موگابے کی جماعت زانو پی ایف کو ستانوے نشستوں پر کامیاب قرار دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ میں زمبابوے کے سفیر بونی فیس چیدایوسیکو نے بی بی سی کو بتایا کہ صدر رابرٹ موگابے کا جو انیس سو اسی کے بعد پہلی مرتبہ انتخابی شکست سے دوچار ہوئے ہیں، وطن چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر رابرٹ موگابے کو ملک کی اقتصادی مشکلات دور کرنے کے لیے ابھی بہت کام کرنا ہے جو ان کے بقول بیرونی طاقتوں کی وجہ سے ملک کو درپیش ہیں۔ ملک میں چار روز قبل پارلیمانی اور صدارتی انتخابات ساتھ ساتھ ہوئے تھے۔ موومنٹ فار ڈیموکریٹک چینج کے ترجمان کے مطابق صدارتی انتخابات میں ان کے امیدوار مورگن شنگھیاری نے کامیابی حاصل کر لی ہے لیکن ایک وزیر برائٹ ماٹنوگا نے کہا ہے کہ صدراتی انتخاب میں کس امیدوار کو واضح کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے اور صدارتی انتخاب کے لیے پولنگ کا دوسرا دور ہوسکتا ہے۔ انہوں کا کہنا ہے کہ ملک کے آئین کے تحت صدارتی انتخاب میں کامیاب قرار دیئے جانے والے امیدوار کے لیے ضروری ہے کہ وہ کل ووٹوں کا اکیاون فیصد حاصل کرے اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں دوبارہ پولنگ کی جا سکتی ہے۔ اس سے قبل مسٹر شھنگرائی نے کہا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ وہ صدر موگابے کو شکست دے چکے ہیں لیکن وہ اپنی کامیابی کا دعوی اس وقت تک نہیں کریں گے جب تک کہ سرکاری نتائج معلوم نہیں ہوجاتے۔انہوں نے صدر رابرٹ موگابے کے ساتھ کسی بھی قسم کے خفیہ معاہدے کے نتیجے میں صدر کے عہدے سے سبکدوش ہونے کی خبروں کی تردید کی ہے۔ | اسی بارے میں صدر موگابے کی جماعت کو شکست02 April, 2008 | آس پاس موگابے سبکدوش نہیں ہو رہے02 April, 2008 | آس پاس زمبابوے: موگابے کو ہرانے کا دعویٰ31 March, 2008 | آس پاس حزبِ اختلاف کا برتری کا دعوی30 March, 2008 | آس پاس افریقہ یورپ کا ’تاریخی باب شروع‘09 December, 2007 | آس پاس مخالفت کے باوجود زمبابوے ووٹ لےگیا12 May, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||