صدر موگابے کی جماعت کو شکست | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زمبابوے میں انتخابی کمیشن نے کہا ہے کہ صدر رابرٹ موگابے کی جماعت زانو ایف پی کی پارلیمنٹ میں اکثریت ختم ہوگئی ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ان کی جماعت نے پارلیمان کی دو سو سات نشتوں میں سے چورانوے حاصل کی ہیں جبکہ حزب اختلاف کی جماعتوں نے ایک سو پانچ نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ ایک سیٹ آزاد امیدوار کو ملی ہے۔ اس سے قبل اپوزیشن کی ایم ڈی سی نے کہا تھا کہ اس کے راہنما مورگن شھنگرائی صدارتی انتخابات جیت چکے ہیں۔ زانو پی ایف جماعت نے اس اعلان کو ان کی خام خیالی قرار دیا تھا۔ زمبابوے کے صدارتی انتخابات کے نتائج کا سرکاری اعلان ابھی نہیں کیا گیا ہے۔ مسٹر شھنگرائی کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ وہ صدر موگابے کو شکست دے چکے ہیں لیکن وہ اپنی کامیابی کا دعوی اس وقت تک نہیں کریں گے جب تک کہ سرکاری نتائج معلوم نہیں ہوجاتے۔ انہوں نے صدر رابرٹ موگابے کے ساتھ کسی بھی قسم کے خفیہ معاہدے کے نتیجے میں صدر کے عہدے سے سبکدوش ہونے کی خبروں کی تردید کی ہے۔ حزب اختلاف کی جماعت موومنٹ فار ڈیموکریٹک چینج کا کہنا تھا کہ آخری نتائج آنے تک کسی بھی قسم کے مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔ موگابے حکومت کے وزیر برائٹ موٹنگا نے بھی خفیہ معاہدے کی اطلاعات تردید کی ہے۔ | اسی بارے میں موگابے سبکدوش نہیں ہو رہے02 April, 2008 | آس پاس زمبابوے: موگابے کو ہرانے کا دعویٰ31 March, 2008 | آس پاس حزبِ اختلاف کا برتری کا دعوی30 March, 2008 | آس پاس افریقہ یورپ کا ’تاریخی باب شروع‘09 December, 2007 | آس پاس مخالفت کے باوجود زمبابوے ووٹ لےگیا12 May, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||