افریقہ یورپ کا ’تاریخی باب شروع‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپی یونین اور افریقی ممالک کے درمیان اتوار کو ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں جس کا مقصد برابری کی بنیاد پر ایک نئی شراکت کا آغاز کرنا ہے۔ پرتگال کے داراحکومت لِزبن میں یورپی اور افریقی رہنماؤں کے سربراہی اجلاس کے بعد ’افریقہ ای یو اسٹریٹجک پارٹر شپ‘ کے نام سے جو اعلامیہ جاری کیا گیا ہے، اس میں سکیورٹی، ترقی اور اچھی حکمرانی جیسے شعبوں میں مشترکہ پالیسی مقاصد وضع کیے گئے ہیں۔ اجلاس کے بعد پرتگال کے وزیر اعظم جوزے سوکریڑیز نے کہا کہ افریقہ اور یورپ کے درمیان ایک نئے باب کا آغاز ہوا ہے۔ ’اہم بات یہ ہے کہ ہم برابری کی حیثیت سے ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے۔ اس اجلاس سے تاریخ کے ایک نئے باب کا آغاز ہوگا‘۔ اس معاہدے پر سڑسٹھ رہنماؤں نے دستخط کیے ہیں اور اس میں کہا گیا ہے کہ اعلامیہ کے مطابق اس شراکت کا مقصد ترقی کے شعبے میں یورپ اور افریقہ کے درمیان خلیج کو پاٹنا ہے اور اس کے لیے اقتصادی تعاون کا سہارا لینا ہوگا۔ لیکن لِزبن سے نامہ نگار مارک ڈائل کے مطابق اس دستاویز میں جن مقاصد کا ذکر کیا گیا ہے انہیں حاصل کرنا بہت مشکل ہوگا۔ بہر حال، بعض افریقی ممالک یورپی یونین کے طریقہ کار سے خوش نہیں۔ مغربی افریقی ممالک کے اقتصادی اتحاد کے سربراہ محمد ابن چمباس کہتے ہیں کہ :’اب تک یورپی یونین نے جو طریقہ کار اختیار کیا ہے، اس میں کوئی ربط یا تسلسل نہیں ہے۔ انہوں نے مختلف ممالک اور خطوں کو الگ الگ مراعات یا معاہدوں کی پیش کش کی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اس کانفرنس کے بعد ہم ایسے معاہدے کر سکیں گے جن میں تھوڑی زیادہ نرمی ہو‘۔ اس سربراہی کانفرنس کو یورپ کی جانب سے افریقہ میں اپنا کم ہوتا ہوا اثر رسوخ بحال کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے کیونکہ براعظم افریقہ میں چین کا اثر کافی بڑھا ہے۔ اجلاس کے دوران سینیگال کے صدر عبداللہی وادے نے کہا کہ تجارتی روابط کا جہاں تک سوال ہے ، افریقہ میں اثر رسوخ کی دوڑ یورپ تقریباً ہار چکا ہے۔ ’میں نے یورپی رہنماؤں سے کہا ہے کہ احتیاط سے کام لیں کیونکہ مقابلہ چین سے ہے اور وہ جنگ ہارنے کے قریب ہیں، ۔ آج مجھے اس بات میں کوئی شبہہ نہیں کہ افریقہ میں مقابلے کی جنگ یورپ ہار رہا ہے‘۔
صدر وادے نے یہ بھی کہا کہ یورپی ممالک دباؤ ڈال کر افریقی ممالک سے تجارتی معاہدے کر رہے ہیں جبکہ چین کا طریقہ کار اچھا ہے جس سے افریقی ممالک میں اس کے لیے گرمجوشی بڑھ رہی ہے۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق چین نے علاقے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری بڑھائی ہے لیکن وہ جمہوریت اور انسانی حقوق جیسے معاملات پر رائے زنی نہیں کرتا۔ سربراہی اجلاس میں زمبابوے کے صدر رابرٹ موگابے کی موجودگی کا سایہ بھی چھایا رہا۔ زمبابوے کی صورتحال پر یورپی یونین کے خدشات کے اظہار کی ذمہ داری جرمنی کی چانسلر اینگلا مرکل کو سونپی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر موگابے کی پالیسیوں سے افریقہ کو نقصان پہنچا ہے۔ ’ زمبابوے کی صورتحال پر ہم سب کو تشویش ہے، چاہے ہم یورپ میں ہوں یا افریقہ میں۔ ہمیں اس بات کا حق حاصل نہیں کہ جب انسانی حقوق کی پامالی ہور ہی ہو، تو نظریں موڑ لیں۔‘ ماضی میں یورپی اور افریقی سربراہاں مملکت کا اجلاس اسی تنازعے کی نذر ہوتے رہے ہیں کہ مسٹر موگابے کو شرکت کی اجازت ہونی چاہیے یا نہیں۔ مسٹر موگابے کے یورپ میں داخلے پر پابندی ہے لیکن افریقی رہنماؤں اس بات پر بضد تھے کہ انہیں بھی شرکت کی دعوت دی جائے۔ |
اسی بارے میں الجزائر حملے القاعدہ کی کارروائی09 September, 2007 | آس پاس دارفور حملہ، دس امن فوجی ہلاک01 October, 2007 | آس پاس ایچ آئی وی:متاثرین کی تعداد کم21 November, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||