الجزائر حملے القاعدہ کی کارروائی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی افریقہ میں القاعدہ کے ارکان نے دعویٰ کیا ہے کہ الجزائر میں گزشتہ دو دنوں میں ہونے والے دو خود کش حملے ان کی تنظیم کی کارروائی تھے۔ ان حملوں میں کم سے کم پچاس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ خود کو اسلامی افریقہ یا ’مغرب‘ میں القاعدہ کہلانے والے گروہ نے یہ دعویٰ ایک ویب سائٹ پر کیا ہے۔ اتوار کو ہونے والے خود کش حملے میں کم سے کم تیس افراد اس وقت ہلاک ہو گئے تھے جب بارود سے بھرے ایک ٹرک کو ڈیلی کی بندرگاہ پر بحری فوج کی بیرکوں سے ٹکرا دیا گیا۔ الجزائر کی حکومت نے اتوار کو اس دہشت گردی کے خلاف جلوس نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ادھر اقوام متحدہ اور یورپی یونین نے بھی حملوں پر شدید تنقید کی ہے۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے چئرمین ژاں ماریس ریپرٹ نے سنیچر کو ہونے والے خود کش حملے کو ایک گھناؤنا فعل قرار دیا ہے۔ ’ختم ہوتی ہوئی دہشتگردی‘
جمعہ کو پہلے خود کش حملے میں بیس سے زیادہ لوگ اس وقت ہلاک ہو گئے تھے جب ایک شخص نے ہجوم میں خود کو بم سے اڑا دیا تھا۔ یہ لوگ ملک کے صدر عبدالعزیز بوتفليقہ کی آمد کا انتظار کر رہے تھے۔ اپریل میں بھی دارالحکومت میں ہونے والے دو بم دھماکوں میں تئیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ان دھماکوں کی ذمہ داری بھی مغربی عرب ممالک میں خود کو القاعدہ کہنے والی ایک تنظیم نےقبول کی تھی۔ شمالی افریقہ میں بی بی سی کے نامہ نگار رچرڈ ہیملٹن کے مطابق القاعدہ کی طرف سے حالیہ خود کش حملوں کی ذمہ داری قبول کرنا حیران کن بات نہیں ہے کیونکہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان حملوں پر القاعدہ کی مہر لگی ہوئی ہے اور افریقہ کے اس خطے میں خود کش حملوں کی روایت القاعدہ ہی لے کر آئی ہے۔ حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے والا گروہ پہلے خود کو’سلفی گروہ برائے تبلیغ و جنگ‘ کے نام سے متعارف کراتا تھا، تاہم گزشتہ برس القاعدہ کے ساتھ ملنے کے بعد اس نے خود کو القاعدہ کہلوانا شروع کر دیا تھا۔ حالیہ حملوں کے بعد صدر عبدالعزیز بوتفليقہ کا اصرار ہے کہ ’ الجزائر کے عوم پر ان حملوں کے اندوہناک نتائج اپنی جگہ لیکن ہمارے ہاں دہشتگردی پسپا ہو رہی ہے۔‘
سرکاری ٹی وی پر خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ معصوم لوگوں کو نشانہ بنا کر حملہ آوروں نے’اپنے لوگوں، اپنی قوم اور مذہب سے دھوکہ کیا ہے۔‘ ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ الجزائری عوام کی اکثریت شدت پسندی کو پسند نہیں کرتی کیونکہ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ برسوں کے خون خرابے سے زچ آ چکے ہیں۔ صدر عبدالعزیز بوتفليقہ نے اسلامی شدت پسندوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ان کی قومی یکجہتی کی پالیسی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کا مقصد فوج اور ایک اسلامی ریاست کے قیام کے خواہش مندگروہوں کے درمیان پندرہ سال سے جاری لڑائی کو ختم کرنا ہے۔ |
اسی بارے میں الجزائر میں دھماکے، 23 ہلاک11 April, 2007 | آس پاس عام معافی پر الجزائر میں ریفرنڈم29 September, 2005 | آس پاس الجزائر کے سفارت کاروں کا قتل 28 July, 2005 | آس پاس عراق: الجزائر کےسفارت کار اغوا21 July, 2005 | آس پاس سفارت کار کے بیٹے کی ’خودکشی‘15 October, 2003 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||