BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 09 September, 2007, 08:10 GMT 13:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
الجزائر حملے القاعدہ کی کارروائی
ہسپتال نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اصافہ ہو سکتا ہے
شمالی افریقہ میں القاعدہ کے ارکان نے دعویٰ کیا ہے کہ الجزائر میں گزشتہ دو دنوں میں ہونے والے دو خود کش حملے ان کی تنظیم کی کارروائی تھے۔ ان حملوں میں کم سے کم پچاس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

خود کو اسلامی افریقہ یا ’مغرب‘ میں القاعدہ کہلانے والے گروہ نے یہ دعویٰ ایک ویب سائٹ پر کیا ہے۔

اتوار کو ہونے والے خود کش حملے میں کم سے کم تیس افراد اس وقت ہلاک ہو گئے تھے جب بارود سے بھرے ایک ٹرک کو ڈیلی کی بندرگاہ پر بحری فوج کی بیرکوں سے ٹکرا دیا گیا۔

الجزائر کی حکومت نے اتوار کو اس دہشت گردی کے خلاف جلوس نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ادھر اقوام متحدہ اور یورپی یونین نے بھی حملوں پر شدید تنقید کی ہے۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے چئرمین ژاں ماریس ریپرٹ نے سنیچر کو ہونے والے خود کش حملے کو ایک گھناؤنا فعل قرار دیا ہے۔

’ختم ہوتی ہوئی دہشتگردی‘
ہسپتال کے حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے دارالحکومت الجیئرز سے ساٹھ میل مشرق میں بندرگاہ پر ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اصافہ ہو سکتا ہے۔

News image
 حملہ آوروں نےاپنے لوگوں، اپنی قوم اور مذہب سے دھوکہ کیا ہے
صدر عبدالعزیز بوتفليقہ

جمعہ کو پہلے خود کش حملے میں بیس سے زیادہ لوگ اس وقت ہلاک ہو گئے تھے جب ایک شخص نے ہجوم میں خود کو بم سے اڑا دیا تھا۔ یہ لوگ ملک کے صدر عبدالعزیز بوتفليقہ کی آمد کا انتظار کر رہے تھے۔

اپریل میں بھی دارالحکومت میں ہونے والے دو بم دھماکوں میں تئیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ان دھماکوں کی ذمہ داری بھی مغربی عرب ممالک میں خود کو القاعدہ کہنے والی ایک تنظیم نےقبول کی تھی۔

شمالی افریقہ میں بی بی سی کے نامہ نگار رچرڈ ہیملٹن کے مطابق القاعدہ کی طرف سے حالیہ خود کش حملوں کی ذمہ داری قبول کرنا حیران کن بات نہیں ہے کیونکہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان حملوں پر القاعدہ کی مہر لگی ہوئی ہے اور افریقہ کے اس خطے میں خود کش حملوں کی روایت القاعدہ ہی لے کر آئی ہے۔

حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے والا گروہ پہلے خود کو’سلفی گروہ برائے تبلیغ و جنگ‘ کے نام سے متعارف کراتا تھا، تاہم گزشتہ برس القاعدہ کے ساتھ ملنے کے بعد اس نے خود کو القاعدہ کہلوانا شروع کر دیا تھا۔

حالیہ حملوں کے بعد صدر عبدالعزیز بوتفليقہ کا اصرار ہے کہ ’ الجزائر کے عوم پر ان حملوں کے اندوہناک نتائج اپنی جگہ لیکن ہمارے ہاں دہشتگردی پسپا ہو رہی ہے۔‘

برسوں کا خون خرابہ
 ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ الجزائری عوام کی اکثریت شدت پسندی کو پسند نہیں کرتی کیونکہ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ برسوں کے خون خرابے سے زچ آ چکے ہیں

سرکاری ٹی وی پر خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ معصوم لوگوں کو نشانہ بنا کر حملہ آوروں نے’اپنے لوگوں، اپنی قوم اور مذہب سے دھوکہ کیا ہے۔‘

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ الجزائری عوام کی اکثریت شدت پسندی کو پسند نہیں کرتی کیونکہ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ برسوں کے خون خرابے سے زچ آ چکے ہیں۔

صدر عبدالعزیز بوتفليقہ نے اسلامی شدت پسندوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ان کی قومی یکجہتی کی پالیسی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کا مقصد فوج اور ایک اسلامی ریاست کے قیام کے خواہش مندگروہوں کے درمیان پندرہ سال سے جاری لڑائی کو ختم کرنا ہے۔

الجزائری فرانس بدر
کارروائی اشتعال پھیلانے کے الزام میں کی گئی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد