BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 September, 2005, 07:17 GMT 12:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عام معافی پر الجزائر میں ریفرنڈم
اس ریفرنڈم میں حکومتی کامیابی کا قوی امکان ہے
الجزائر کے شہری دس سال سے ملک بھر میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے ایک ریفرنڈم میں ووٹ ڈال رہے ہیں۔

اس خانہ جنگی کے نتیجے میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔ اس ریفرنڈم میں مثبت ووٹ ڈالے جانے کی صورت میں حکومت جیلوں میں قید بہت سے افراد کو معافی دے گی۔ تاہم قتل ِ عام، زنا باالجبر، اور دہشتگرد حملوں کے مرتکب افراد اس عام معافی کے حقدار نہیں ہوں گے۔

اس ریفرنڈم کے مخالف گروہ اس ریفرنڈم کا بائیکاٹ کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ قانونی انصاف کے بنا کسی کو بھی معافی نہیں دی جانی چاہیے۔

یہ گروہ حکام سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان ہزاروں افراد کا پتہ لگایا جائے جو اس خانہ جنگی کے دوران غائب ہو گئے ہیں جبکہ الجزائر کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ اس وقت بھی ایک ہزار کے قریب شدت پسند اپنی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

الجزائر کے صدر کا امن اور قومی افہام وتفہیم کا یہ چارٹر الجزائر کو جدید بنانے اور مغربی ممالک سے تعلقات میں بہتری لانے کی کوشش ہے۔ اس چارٹر کے تحت لڑائی میں ہلاک ہونے والے افراد کے اہلِ خانہ کو معاوضہ بھی دیا جائے گا۔

حقوقِ انسانی کی تنظیم نے اس چارٹر پر یہ الزام لگایا ہے کہ اس کے تحت حکومتی فوج کی جانب سے حقوقِ انسانی کی خلاف ورزیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ اس ریفرنڈم میں حکومتی کامیابی کا قوی امکان ہے کیونکہ الجزائر کی آبادی ملک میں جاری لڑائی سے متنفر ہو چکی ہے اور وہ اب ایک نئی زندگی کا آغاز چاہتی ہے۔ تاہم لوگ یہ بھی چاہتے ہیں کہ اسلامی شدت پسندوں اورفوج کی جانب سے کیے جانے والے جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بھی سامنے لایا جائے۔

خانہ جنگی میں اپنے بیٹے کو کھونے والے پینسٹھ سالہ چرگوئن گیگا نے خبر رساں ادارے رائٹر ز کو بتایا کہ’میں نہیں چاہتا کہ حکومت مجھے میرے بیٹے کے قتل کا معاوضہ دے۔ میں چاہتا ہوں کے مجھے حقیقت بتائی جائے اور یہ کہ سکیورٹی افواج نے اسے کیوں اغوا کیا تھا‘۔

الجزائر کی سرکاری فوج پر اس خانہ جنگی کے دوران قتل اور اغوا کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ الجزائر میں خانہ جنگی اس وقت شروع ہوئی تھی جب فوج نے سنہ 1992 میں انتخابات کا دوسرا مرحلہ منسوخ کر دیا تھا جس میں اسلامی شدت پسندوں کی فتح کا امکان تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد