الجزائر میں دھماکے، 23 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
الجیریا کے دارالحکومت الجزائر میں وزیر اعظم عبدالعزیز بلخادم کے دفتر کے قریب دو دھماکے ہوئے ہیں جن میں کم از کم تئیس افراد ہلاک اور ایک سو ساٹھ زخمی ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم عبدالعزیز بلخادم نے جو ان حملوں میں محفوظ رہے الجیرین ریڈیو سے بات کرتے ہوئے ان دھماکوں کو بزدلانہ اور مجرمانہ اقدام قرار دیا ہے۔ سرکاری اے پی ایس ایجنسی کے مطابق پہلا دھماکہ شہر کے وسط میں ایک سرکاری عمارت میں ہوا جس کے نتیجے میں کم از کم بارہ لوگ ہلاک اور ایک سو اٹھارہ زخمی ہوئے۔ جبکہ دوسرا دھماکہ ایک پولیس سٹیشن پر ہوا جس میں گیارہ افراد ہلاک اور 44 زخمی ہوئے ہیں۔ ایک شخص نے ایک عربی ٹی وی چینل کو فون کر کے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی اور اپنا تعلق القاعدہ سے ظاہر کیا ہے۔ تاہم کسی آزاد ذرائع سے اس اعتراف کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق شہر کے وسط میں ہونے والے دھماکے کی گونج اتنی بلند تھی کہ چھ میل دور تک کے علاقے میں سنی جا سکتی تھی۔ سرکاری عملے کے کئی لوگ دھماکے کے بعد شیشے کے ٹکڑے لگنے سے بری طرح زخمی ہوگئے۔ ایمبولینس اور پولیس کے اہلکار موقع پر پہنچے اور پولیس نے دھماکے کی جگہ سے وزیر اعظم کے دفتر کی جانب جانے والے راستے کو بند کر دیا۔ بی بی سی کے عرب امور کے تجزیہ نگار مغدی عبدالحادی کے مطابق یہ دھماکے الجیریا کی حکومت کے لیے ایک بہت بڑا دھچکہ ہیں جو کہ پچھلے چار سال سے ان شدت پسندوں کے خلاف ایک لڑائی لڑ رہی ہے۔ شدت پسندی کے ان واقعات نے 1990 کی دہائی کے وسط میں زور پکڑا تھا اور دو سال قبل ایمنسٹی کے اعلان کے باوجود الجیریا میں شدت پسندی نے کبھی بھی مکمل طور پر دم نہیں توڑا ہے۔ حالیہ واقع اس دس سالہ درد ناک تنازعہ کی یاد کو تازہ کر دے گا جس کے نتیجے میں تقریباً ایک لاکھ پچاس ہزار لوگ مارے گئے تھے۔ | اسی بارے میں طالبان کا سرکاری دفاتر پر قبضہ06 April, 2007 | آس پاس رمادی خود کش حملہ، 30 ہلاک06 April, 2007 | آس پاس گوانتا نامو میں حالات ابتر: ایمنسٹی05 April, 2007 | آس پاس ایشیائی گھرانوں میں تشددبڑھ گیا08 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||